مولانا فضل الرحمان کے تحفظات ہیں جنہیں بیٹھ کر دور کرلیں گے:گورنر کے پی
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہےکہ مولانا فضل الرحمان کے تحفظات ہیں تاہم انہیں بیٹھ کر دور کرلیں گے۔ گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے پولیس ٹریننگ اسکول کا دورہ کیا جہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں پولیس کی کارکردگی قابل تعریف ہے، قیام امن کے لیے جان دینے والے پولیس اہلکاروں کے شہدا کے ورثا کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ٹریننگ اسکول حملے میں ملوث افراد کا تعلق افغانستان سے تھا، بھارت اور اسرائیل پاکستان کے خلاف سرمایہ کاری کررہے ہیں، بھارت اور اسرائیل افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ گورنر کے پی کا کہنا تھا کہ نئے وزیراعلیٰ سے فی الحال غیر رسمی ملاقات ہوئی ہے، ضم شدہ اضلاع میں آئل اور گیس کے ذخائر ہیں، او جی ڈی سی ایل والے یہاں آنا چاہتے ہیں اور یہ سب امن سے ممکن ہے۔ فیصل کریم نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان سیاسی عمل پر یقین رکھتے ہیں، فضل الرحمان نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر سیاسی جدوجہد کی، مولاناکے تحفظات ہیں جنہیں بیٹھ کر دور کرلیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فضل الرحمان
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔