Jasarat News:
2026-07-24@16:18:59 GMT

حالات کا ملبہ انوار الحق پر ڈالنے کی حکمت عملی

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آزادکشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج ایک بھونچال پیدا کرکے ختم ہوگیا ہے۔ اس صورتحال پر بھونچال کی اصطلاح اس لیے صادق آتی ہے کہ سات دن تک آزادکشمیر موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت سے کلی طور پر محروم رہا۔ آزاد کشمیر کے طول وعرض سے لوگ دارالحکومت مظفرآباد کی طرف مارچ کرتے رہے جو مظفر آباد اور دھیرکوٹ میں خونیں رنگ بھی اختیار کرگئے اور کئی افراد اپنی جانوں سے گزر گئے۔ یہ حالات فریقین کے درمیان ایک معاہدے کے نتیجے میں بدل گئے۔ اس معاہدے میں آزادکشمیر حکومت کہیں نظر نہیں آتی بلکہ یہ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہے۔ بہت سے حلقوں کی خواہش تھی کہ آزادکشمیر انتظامیہ کو عوام کے خلاف بے رحمی سے استعمال کیا جائے۔ ایسا ہونے کی صورت میں آزادکشمیر مستقل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا تھا۔ آزادکشمیر انتظامیہ اس فرمائش سے کنی کترا گئی۔ جس کے بعد پرائیویٹ حلقوں کو مظفرآباد واقعات کے لیے استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ وفاقی حکومت اب ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر کس حد تک عمل درآمد کرتی ہے سب کی نظریں اسی پر لگی ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے راہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر کا جس رفتار سے اندراج ہونے لگا ہے وہ یہ بتارہا ہے کہ آزادکشمیر کے سیاسی امن اور حالات کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ دہشت گردی کی ایف آئی آر اور الزامات آزادکشمیر میں حالات کی ایسی دلدل بنانے کا باعث بن سکتے ہیں جس میں دونوں فریق دھنستے اور پھنستے چلے جائیں گے۔ یوں اس بات کا امکان موجود ہے کہ حکومت ایکشن کمیٹی بڑے مطالبات پر عمل درآمد سے پہلو تہی کر لے۔ ایسی صورت میں ایکشن کمیٹی کے راہنما شوکت نواز میر دوٹوک انداز میں کہہ چکے ہیں کہ معاہدہ پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ احتجاج کی کال دی جا سکتی ہے۔

ایکشن کمیٹی کی احتجاج کی دھمکی میں اس لیے وزن ہوتا ہے کہ آزادکشمیر کے منظر پر اْبھرنے والی ایسی قوت ہے جو شٹر کی طاقت بھی رکھتی ہے اور اسٹریٹ پاور کی حامل بھی ہے۔ گوکہ اس کا نیوکلئس تاجر کمیونٹی ہے مگر سول سوسائٹی بھی ان کے ساتھ ایکا کیے ہوئے ہے۔ آزادکشمیر میں گورننس کا ناکام ماڈل، حکومت اور اپوزیشن کی تقسیم اور تفریق کا خاتمہ، احتساب کے عمل کو ختم کرنا ایسے بنیادی عوامل ہیں جو آزادکشمیر کے عوام کو ایکشن کمیٹی کے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ اسی طاقت نے آزادکشمیر حکومت کو مفلوج بنانے کے ساتھ وفاقی حکومت کے نمائندوں کو قطار اندر قطارمظفر آباد پہنچ کر ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات پر مجبور کیا۔ اس عوامی لہر کے مقابلے میں مہاجرین سے تعلق رکھنے والے جن وزراء کو میدان میں اْتارا گیا ان کو پڑنے والوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں۔ یہ ایک ہاری ہوئی جنگ تھی جس کا یہی انجام ہونا تھا جو آخر کار ہوا۔ ایکشن کمیٹی کو عوام سے کاٹنے کے لیے جتنے بیانیے تخلیق کیے گئے غیر موثر ثابت ہوئے۔ جتنے انسانی اثاثوں کو بیانیہ ساز مشینوں کے طور پر آگے بڑھایا وہ بھی اپنا تاثر اور اعتبار قائم نہ کر سکے۔ جو کچھ ہوا یہ نوشتۂ دیوار تھا مگر کسی نے دیوار پر لکھے ہوئے پڑھنے کی کوشش نہیں کی اگر کسی نے پڑھ بھی لیا تو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔

یہ آزادکشمیر کے سیاسی نظام کی ناکامی ہے۔ وفاق سے آزادکشمیر کی سیاست کو کنٹرول کرنے اور اس کے نین نقش سنوارنے والوں کی ناکامی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اس ناکامی کا تنہا بوجھ وزیر اعظم انوار الحق پر ڈال کر انہیں قربانی کا بکر ا بنانے کی کوشش کی۔ حالات معمول پر آتے ہی چودھری انوارالحق کو ساری ناکامیوں کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تیاریاں کی جانے لگیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے چودھری انوار الحق کوخود انوارالحق کے فاروڈ بلاک کے ساتھ مل کر منظر سے ہٹانے کی تیاریاں شروع کیں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کی طرف سے چودھری انوار الحق کو ہٹانے کی منظوری حاصل کرنے کے دعوے کیے تو پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی نے اگلے لائحہ عمل کے لیے کراچی کا سفر اختیار کیا اور پارٹی کے امور کی نگران بیگم فریال تالپور کے ساتھ ملاقات کی۔ طول مشاورت کے بعد ان ملاقاتوں سے کچھ برآمد نہ ہوا اور ارکان اسمبلی اور لیڈروں کو فریال تالپور کے ساتھ ایک عدد تصویر بنوا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ یوں بھی آزادکشمیر کے انتخابات اگر پروگرام کے مطابق ہوتے ہیں تو اگلے سال جولائی میں ان کا انعقا د لازمی ہے۔ اس عمل میں صرف آٹھ نوماہ کا عرصہ باقی ہے۔ آٹھ ماہ کے لیے وزیر اعظم بننا گناہ بے لذت کے سوا کچھ نہیں۔ کراچی سے پارٹی لیڈروں کو چند ماہ کے لیے صبر کا کڑوا گھونٹ پینے کا ہی مشورہ دیا گیا اور یوں چودھری انوارالحق کو قربانی کا بکرا بنانے کی حکمت عملی کامیاب نہ ہوسکی۔ اب ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات پْرامن انداز میں حل کرنے میں ناکامی صرف وزیر اعظم انوارالحق کی تنہا کامیابی نہیں بلکہ یہ حکومت میں شامل پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی ناکامی بھی ہے۔ اگلے برس ہونے والے انتخابات میں دونوں جماعتوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں نے آزادکشمیر کی سیاسی حقیقتوں اور حرکیات کو بری طرح متاثر کیا ہے مگر سیاسی جماعتیں اب بھی زمینی صورت حال کا ادراک کرتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔

عارف بہار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایکشن کمیٹی کے ا زادکشمیر کے چودھری انوار انوار الحق الحق کو کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت غیر ضروری وزارتیں اور محکمے ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کر سکتی ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ وفاق آئین کے مطابق محدود دائرۂ اختیار میں کام کرے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

سینیٹرضمیر حسین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی صوبوں کو منتقلی، وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو اور آئینی اداروں کی فعالیت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران ارکان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو غیر ضروری وزارتوں اور اداروں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کو آئینی تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جائے اور اس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔

سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، جبکہ آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی وزارتوں اور اخراجات کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

اجلاس میں سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ تقریباً 3 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کا تیل نکلتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا بھی تیل و گیس کی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، تاہم تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو گزشتہ 16 برس سے ان کا آئینی حق نہیں دیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کی مد میں واجب الادا رقوم کیوں ادا نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا آئین اور بہتر طرزِ حکمرانی کے منافی ہے۔

اجلاس کے دوران وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ کمیٹی کو آئین کے آرٹیکل 38(جی) سے متعلق بھی رپورٹ پیش کی گئی۔

کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تیل و گیس سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کی تقسیم کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ، وفاقی نظام کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ غیر ضروری سرکاری اخراجات اور ڈپلیکیٹ محکموں کا جامع جائزہ لے کر قومی وسائل کی بچت کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی غفلت پر کسی سے کوئی رعایت نہیں بلاتفریق ایکشن ہوگا، وزیر محنت سندھ
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پیٹرولیم قیمتوں کا روزانہ تعین، سینیٹ قائمہ کمیٹی نے وضاحت طلب کر لی
  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف