بھارت: 2 سال سے تنخواہ نہ ملنے پر سرکاری ملازم نے خودکشی کر لی
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک سرکاری ملازم نے 2سال سے زائد عرصے تک تنخواہ نہ ملنے اور مسلسل ذہنی اذیت کے باعث پنچایت دفتر کے سامنے خودکشی کر لی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق خودکشی کرنے والے سرکاری ملازم کی شناخت چیکوسا نائیکا کے طور پر ہوئی ہے جو 2016ء سے ہونگنورو گرام پنچایت میں پانی سپلائی کے ملازم کے طور پر کام کر رہا تھا۔ چیکوسا نائیکا کو گزشتہ 27 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی، اس نے کئی بار مقامی عہدیداروں سے تنخواہ کی ادائیگی کی درخواست کی اور حتیٰ کہ خراب صحت کے باعث استعفا بھی جمع کروایا مگر متعلقہ حکام نے اس کی فریادوں کو نظر انداز کر دیا۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازم نے خودکشی سے قبل ایک خط بھی چھوڑا ہے، چیکوسا نے خط میں تحریر کیا کہ پنچایت ڈیولپمنٹ آفیسر اور گرام پنچایت کے صدر مسلسل اسے ذہنی طور پر ہراساں کرتے رہے، اگر وہ چھٹی مانگتا تو اسے متبادل ڈھونڈنے کے لیے کہا جاتا اور روزانہ صبح 8بجے سے شام 6بجے تک دفتر میں موجود رہنے پر مجبور کیا جاتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرکاری ملازم
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔