کوہستان کرپشن اسکینڈل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جب کہ مرکزی ملزم قیصر اقبال کو اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی نیب نے گرفتارکرلیا جس کے بعد ان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا

نیب ذرائع نے کہا کہ ملزم کے ساتھ ان کی اہلیہ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، ملزم ابیٹ آباد میڈیکل کمپلیکس میں عرصہ دراز سے زیر علاج تھا۔

نیب زرائع نے کہا کہ ملزم نے اپنی اہلیہ اور کنٹریکٹر ممتاز کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے منتقل کیے، ملزم نے اپنی اہلیہ اور بھانجے کے نام پر کروڑوں روپے کی جائیدادیں بنائی ہیں۔

بعد ازاں اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں گرفتار مرکزی ملزم کو اہلیہ سمیت احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، احتساب کے جج حامد مغل  نے ملزم قیصر اقبال اور اہلیہ کو 4  روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالہ کردیا۔

ڈپٹی پراسیکوٹر نیب محمد علی  نے کہا کہ ملزم قیصر اقبال سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارمنٹ اپر کوہستان میں 2013 تک  ہیڈ کلرک تھا، ملزم اس اسکینڈل کی جعل سازی میں ماسٹر مائنڈ تھا، ملزم نے جعلی چیکس اور دستاویزات بنائے اور پھر اسکے ذریعے قومی خزانے پیسے نکالے ، ملزم نے غیر قانونی طریقے سے 37 بلین روپے غبن کیے۔

ڈی پی جی نے کہا کہ ملزم نے اپنی اہلیہ اور دیگر بینامی داروں کے نام منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے بنائے،ملزم کی گھر کی تلاشی پر  سونا ، بیرونی ممالک کی کرنسی ،لگژری گاڑیاں جن کی مالیت 14 بلین روپے ہے ، دونوں ملزمان نے نیب تفتیش میں تعاون نہیں کیا۔

تفتیشی افسر نے استدعا  کی کہ ملزمان سے تفتیش کی ضرورت ہے 14 روزہ  جسمانی ریمانڈ دیا جائے ، عدالت نے دونوں ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالہ کردیا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان نے کہا کہ ملزم

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن