پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کرادیا۔وزارت تجارت نے بزنس ٹو بزنس بارٹر ٹریڈ میکنزم میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس میں ان ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کیلئے مختلف شرائط کو نرم کردیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق برآمد سے قبل لازمی درآمد کی شرط نرم کرکے بیک وقت درآمد وبرآمد کی اجازت ہوگی، نجی اداروں کوکنسورشیم بنانے کی اجازت دے دی گئی اور بارٹر ٹریڈ کے لین دین کا دورانیہ 90 روز سے بڑھاکر 120 روز کردیا گیا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ مخصوص اشیا کی فہرست کو ختم کردیا گیا، اس کوعام ایکسپورٹ اورامپورٹ پالیسی آرڈرزکے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ان اقدامات سے بارٹر ٹریڈ میکنزم کو زیادہ عملی اورکاروبار دوست بنایاجاسکے گا، پاکستان نےجون 2023میں افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ میکنزم نافذ کیا تھا اور میکنزم کے نفاذ کے بعد اس پر عملدر آمد میں متعدد مسائل سامنے آئے تھے، بزنس گروپس اوراسٹیک ہولڈرز نے مختلف مشکلات کی نشاندہی کی تھی، ان میں منظور شدہ اورغیر منظور شدہ مصنوعات پرقدغن کی نشاندہی کی گئی تھی، درآمد وبرآمد کیلئے انتہائی محدود اشیا کی فہرست کے مسئلے کی نشاندہی کی گئی تھی۔
یواےای نے گولڈن ویزا کی نئی کیٹگری متعارف کرادی
ذرائع نے بتایاکہ بیرون ملک پاکستانی مشنز سے معاہدوں کی تصدیق کی شرط کو نرم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، برآمدات سے قبل لازمی درآمدکی شرط کی مشکلات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کسٹمزکی منظوری کے90 روزکے اندر کھاتوں کی تصفیے کی پابندی کی نشاندہی کی گئی تھی، ان رکاوٹوں نے تجارتی سرگرمیوں کو سست اور کاروبار کیلئے مشکلات پیدا کردی تھیں، ان مسائل کے حل کیلئے وزارت تجارت نےسرکاری اورنجی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی تھی، اسٹیٹ بینک، وزارتِ خارجہ، ایف بی آر، پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ وسیع مشاورت کی گئی تھی۔
حیدرآباد سے فتنہ الہندوستان کے روپوش 2 دہشتگرد گرفتار
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کی نشاندہی کی گئی تھی بارٹر ٹریڈ کے ساتھ
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :