ٹرمپ کا یوکرینی صدر کو جنگ بندی کیلئے پیوٹن کی شرائط ماننے پر زور ، برطانوی اخبار
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی پر زور دیا کہ وہ روس کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی کچھ شرائط تسلیم کرنے پر غور کریں تاکہ خطے میں امن قائم کیا جا سکے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے اپنے یوکرینی ہم منصب کو روسی صدر کی جانب سے دی گئی مبینہ دھمکی سے بھی آگاہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے کہا کہ پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین نے روسی شرائط کو تسلیم نہ کیا تو روس بھرپور کارروائی کرتے ہوئے یوکرین کو “تباہ” کر دے گا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ امریکی صدر نے زیلینسکی کو مشورہ دیا کہ وہ مشرقی یوکرین کے ڈونباس علاقے کو روس کے حوالے کرنے پر غور کریں، کیونکہ یہ تنازعہ کا سب سے بڑا محور بن چکا ہے۔ تاہم، فنانشل ٹائمز کے مطابق، یوکرینی صدر زیلینسکی نے صدر ٹرمپ کو قائل کر لیا کہ وہ موجودہ جنگی پوزیشن کو برقرار رکھتے ہوئے جنگ بندی پر راضی ہوں۔
ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “دونوں ممالک کو موجودہ محاذ پر جنگ روک دینی چاہیے اور خون خرابہ ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “اب دونوں فریق خود کو فاتح قرار دے کر فیصلہ تاریخ پر چھوڑ دیں۔”
فنانشل ٹائمز کے مطابق، زیلینسکی نے اس پیشکش کو ایک “اہم اور حقیقت پسندانہ” نکتہ قرار دیا۔ یاد رہے کہ امریکی اور یوکرینی صدور کے درمیان یہ ملاقات وائٹ ہاؤس میں دو روز قبل ہوئی تھی، جسے ماہرین نے یوکرین تنازع کے حوالے سے ایک ممکنہ موڑ قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔