Express News:
2026-06-03@02:26:14 GMT

آرتھرپاؤل

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

آرتھر پاؤل امریکن تھا‘ اکاؤنٹس‘ بجٹ اور آفس مینجمنٹ کا ایکسپرٹ تھا‘ وہ امریکی سیکریٹری آف اکنامکس کا اسسٹنٹ بھی رہا اور اکنامک وار فیئر کا چیف بھی‘ وہ 1960میں ایشیا فاؤنڈیشن میں شامل ہوا اور افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ کا اکنامک ایڈوائزر بن گیا‘ ظاہر شاہ نے افغانستان پر چالیس سال (1933سے1973) حکومت کی ‘ وہ 1973 میں آنکھوں کے آپریشن کے لیے روم گیا اور اس کی غیرموجودگی میں اس کے کزن محمد داؤد خان نے اس کا تختہ الٹ دیا جس کے بعد افغانستان میں وہ خونی کھیل شروع ہوا جو آج 52 سال بعد بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا‘ آرتھر پاؤل نے ظاہر شاہ کو آزاد معیشت کا ماڈل بنا کر دیا۔

 اس کے مشورے پر بادشاہ نے خواتین کو حقوق دیے‘ یونیورسٹیاں اور زنانہ کالج بنائے اور معاشرے کو مزید لبرل کیا‘ آرتھر پاؤل کی وجہ سے افغانستان کا تخت روس سے دور اور امریکا کے قریب ہونے لگا‘ یہ دوستی روس کو پسند نہیں آئی چناںچہ اس نے بادشاہ کے کزن داؤد خان سے ساز باز کر کے بادشاہ کا تخت الٹا دیا‘ داؤد خان نے اقتدار پر قبضہ کیا اور افغانستان کا پہلا صدر بن گیا‘اقتدار کی تبدیلی کے بعد کش مکش شروع ہوئی اور یہ 1978 اس وقت تک جاری رہی جب تک سوویت یونین نے عملی طور پر افغانستان میں داخل ہو کر داؤد خان کو قتل نہیں کر دیا‘ یہ بہرحال بعد کی باتیں ہیں‘ آرتھر پاؤل ان حادثوں سے کہیں پہلے کابل آیا اور بادشاہ ظاہر شاہ کا مشیر بن گیا۔

 بادشاہ کی قربت کی وجہ سے اس کی افغان آرکائیو تک رسائی ہو گئی‘ وہ روز کسی نہ کسی تاریخی دستاویز کی تصویر یا فلم بناتا تھا یا اہم معلومات اپنے پاس لکھ لیتا تھا اور پھر خود یا کسی نہ کسی ذریعے سے اسے پاکستان بھجوا دیتا اور یہ کراچی کے راستے پی آئی اے کے ذریعے امریکا پہنچ جاتی تھی‘ وہ روز ڈائری بھی لکھتا تھا جس میں وہ افغانستان کے اپنے سفر‘ قبائل کی عادتوں‘ محل کی اندرونی صورتحال‘ روسیوں کی مداخلت اور افغان معاشرے میں پلنے والی بے چینی کی روداد لکھتا تھا‘ اس نے افغانستان میں رہ کر محسوس کیا افغان معاشرے میں استاد کی بہت عزت ہے‘ افغان سماجی طور پر کٹڑ مذہبی اور تاجر لوگ ہیں‘ یہ سرمائے اور مذہب دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلتے ہیں چناں چہ اس کا خیال تھا اگر کسی نے افغانستان کو قابو کرنا ہو تو اس کے پاس تین کارڈز ہونے چاہییں‘ مذہب کا کارڈ‘ اساتذہ کا کارڈ اور دولت کا کارڈ اور پورا افغانستان پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں گر جائے گا‘ آرتھر پاؤل پانچ سال افغانستان میں رہا‘ ان برسوں میں اس نے افغانستان کا چپہ چپہ چھان مارا‘ اس نے پوراافغان آرکائیو بھی کاپی کر لیا‘ وہ 1965 میں کابل سے امریکا واپس آ گیالیکن اس وقت تک اس کے پاس افغانستان کی 20 ہزاردستاویز جمع ہو چکی تھیں۔

 یہ افغانوں سے متعلق دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ تھا‘ آرتھر پاؤل نے اس خزانے کی مدد سے1965 میں سی آئی اے کو بتا دیا تھا روسی ظاہر شاہ کا تختہ الٹ دیں گے جس کے بعد افغانستان میں خون کا کھیل شروع ہو جائے گا اور یہ پورے سینٹرل ایشیا کو اپنے نرغے میں لے لے گا‘ اس کا کہنا تھا روس افغانستان کے بعد ایران اور پاکستان کو قابو کرنے کی کوشش کرے گا‘ ایران کے پاس تیل اور گیس کے ذخائر ہیں جب کہ پاکستان کی آرمی اور لوکیشن دونوں آئیڈیل ہیں اگر یہ دونوں ملک روس کے ہاتھ آ گئے تو پھر یہ عربوں کو بھی نگل جائے گا اور یورپ کو بھی تین سائیڈز سے گھیر لے گا جس کے بعد یہ دنیا کی واحد سپر پاور ہو گا‘ اس کا کہنا تھا ہمیں فوراً افغانستان‘ ایران اور پاکستان پر توجہ دینی ہو گی‘خوش قسمتی سے ان تینوں ملکوں کے درمیان شیعہ اور سنی اختلافات موجود ہیں‘ ہمیں اختلافات کی یہ لکیر گہری کرنی ہو گی تاکہ اگر ان ملکوں میں انقلاب بھی آ جائے تو بھی یہ مخالف فرقوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے دست وبازو نہ بن سکیں‘ اس کا یہ بھی کہنا تھا ہمیں افغانستان کے اساتذہ کو ہاتھ میں لینا چاہیے‘ یہ مستقبل میں ہمارا بہت بڑا سرمایہ ثابت ہوں گے۔

آرتھر پاؤل 1976 میں فوت ہو گیا لیکن وہ 1970کے شروع میں 20 ہزار کولیکشنز پر مشتمل اپنا سارا خزانہ یونیورسٹی آف نبراسکا کے حوالے کر گیا اور یونیورسٹی نے سی آئی اے کی مدد سے 1972 میں اپنے کیمپس میں ’’سینٹر فار افغانستان اینڈ ریجنل اسٹڈیز‘‘ کے نام سے افغانستان پر دنیا کا سب سے بڑا تحقیقی سینٹر بنا دیا‘ یہ سینٹر آج تک قائم ہے اور اس میں افغانستان کی تمام خفیہ اور ظاہری دستاویز محفوظ ہیں‘ ان میں کابل کے 1842 کے دربار‘ لارڈ لائیٹن (Lytton) کی 1879 کی افغان وار‘ لارڈ کرزن کی 1883 کی افغان جنگ میں برٹش سپاہیوں کی قربانیاں‘ 1895 کا کابل دربار‘ پٹھان بارڈر لینڈ‘ 1921 میں چترال سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک کے حالات‘ ہرات سے لے کر خیوا‘ خوارم شاہ کا دربار‘ خیوا پر روس کا قبضہ‘ غزنی سے کابل تک کی سیر‘ دوست محمد کا دربار‘ راجہ رنجیت سنگھ کے افغانستان سے متعلق نوٹس اور روس کی خیوا پر 1840 کی مہم تک شامل ہیں۔

 آرتھر پاؤل کی تحقیق اس حد تک سالڈ تھی کہ اس نے 1965 میں لکھ دیا تھا افغان 39 کے ہندسے کو پسند نہیں کرتے‘ ان کے خیال میں یہ ماضی میں طوائفوں کے بیج کا نمبر ہوتا تھا چناں چہ اگربدقسمتی سے آپ کی پراپرٹی یا گاڑی کے نمبر میں 39 آگیا تو پھر یہ افغانستان میں نہیں بکے گی‘ بہرحال قصہ مزید مختصر آرتھر پاؤل کی دستاویز پر مشتمل سینٹر نے آنے والے دنوں میں افغانستان پر امریکی اثرونفوذ میں بڑا ہم کردار ادا کیا‘ آرتھر کی تحقیق کی روشنی میں امریکا کی ہدایت پر ذوالفقار علی بھٹو نے افغانستان کی مختلف یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے 16 اساتذہ کا انتخاب کیا‘ انھیں پاکستان بلایا اورانھیں جہاد کی ٹریننگ دینا شروع کر دی‘آپ کے لیے شاید یہ معلومات انکشاف ہوں افغان جہاد کے بانی جنرل ضیاء الحق کے بجائے ذوالفقار علی بھٹو تھے‘‘ میجر جنرل نصیر اللہ بابر ابتدائی مجاہدین کے ٹرینر تھے۔

 یہ 16 اساتذہ بعدازاں افغانستان میں امریکا کے کمانڈرز ثابت ہوئے اور انھوں نے وہاں ایسی آگ لگائی جو آج تک بجھ نہیں سکی‘ میجر جنرل نصیر اللہ بابر پکے امریکا نواز تھے‘ یہ بھٹو صاحب کے دور میں کے پی میں گورنر اور بے نظیر بھٹو کی پہلی اور دوسری حکومت میں وفاقی وزیر داخلہ رہے‘ بے نظیر بھٹو ان کے بیک گراؤنڈ سے واقف تھیں چناں چہ وہ انتہائی اہم معلومات ان سے خفیہ رکھتی تھیں‘ مجھے جنرل حمید گل مرحوم نے ایک بار بتایا تھا میں وزیراعظم کی گاڑی میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا‘ نصیر اللہ بابر اگلی سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ تھے‘ میں محترمہ کو افغانستان کے بارے میں کچھ بتانے لگا تو بی بی نے اگلی سیٹ کی طرف اشارہ کر کے مجھے روک دیا‘ میں سمجھ گیا محترمہ اپنے وزیر داخلہ کی وفاداری سے مطمئن نہیں ہیں۔

اس کی تصدیق بعدازاں میجر عامر نے بھی کی‘ یہ ماشاء اللہ حیات ہیں‘ آپ ان سے بھی پوچھ سکتے ہیں‘ بہرحال قصہ مزید مختصر 1978 میں سوویت یونین افغانستان میں داخل ہو گیا‘ امریکی روس سے براہ راست جنگ نہیں چاہتے تھے‘ جنرل ضیاء الحق ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہو چکے تھے اور انھیں بھی دوسرے آمروں کی طرح ایک بڑی جنگ چاہیے تھی چناں چہ انھوں نے بھٹو صاحب کے ٹرینڈ شدہ 16 اساتذہ گل بدین حکمت یار‘ برہان الدین ربانی‘ احمد شاہ مسعود‘ عبدالرشید دوستم اور عبدالرسول سیاف کی مدد سے افغان وار شروع کر دی‘ بعدازاں سینیٹر چارلی ولسن کی وجہ سے امریکا اور عرب بھی اس جنگ میں شامل ہو گئے۔

 امریکی آج بھی چارلی ولسن کی وجہ سے افغان جنگ کو چارلی ولسن وار کہتے ہیں‘ وقت نے بہرحال یہ ثابت کر دیا افغان جہاد کوئی اسلامی جہاد نہیں تھا‘ یہ روس اور امریکا کے مفادات کی جنگ تھی جس میں نبراسکا یونیورسٹی کے ’’ سینٹر فار افغانستان اینڈ ریجنل اسٹڈی‘‘ اور آرتھر پاؤل کی دستاویز کے ذریعے اسلام کا بے دریغ استعمال کیا گیا‘ امریکی مفادات کی کاشت کاری میں مصر‘ سعودی عرب اورکینیا کے جذباتی مسلمان نوجوانوں کو بطور کھاد استعمال کیا گیا‘ یہ کھیل سوویت یونین کی واپسی تک جاری رہا‘ روس کی واپسی کے بعد افغانستان کے نام نہاد ’’مجاہدین‘‘ آپس میں لڑ پڑے اور انھوں نے امریکی اسلحہ کی مدد سے اپنے ہی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی‘ افغانستان میں اتنا خون بہا کہ اس کے چھینٹے امریکا تک پہنچنے لگے۔

 بے نظیر بھٹو اور جنرل نصیر اللہ بابر کو دوسری بار اقتدار میں لایاگیا اور ان کے ذریعے آرتھر پاؤل کا دوسرا کارڈ کھیلا گیا اور وہ ’’مذہب کا کارڈ‘‘ تھا‘ پاکستانی مدارس میں پڑھنے والے طلباء کو اکٹھا کیا گیا اور انھیں افغانستان میں دھکیل دیا گیا‘ انھیں یہ بتایاگیا تھا امام مہدی کا ظہور قریب ہے‘ یہ خراسان میں تشریف لائیں گے‘ آپ نے ان کی آمد کے لیے فضا ہموار کرنی ہے۔

یہ اسے حکم ربی سمجھ کر چل پڑے‘ افغان وار لارڈز اس وقت تک لڑ لڑ کر تھک چکے تھے‘ طالبان آئے تو یہ چپ چاپ پیچھے ہٹنے لگے اور یوں 1996 تک پورے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہو گیا جس کے بعد امریکا اور پاکستان نے سکھ کا سانس لیا لیکن یہ سکھ بعدازاں عارضی ثابت ہوا‘ طالبان اپنے انقلاب کو واقعی حقیقت سمجھ بیٹھے تھے‘ یہ اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے تھے ہمیں قدرت نے پوری دنیا کی قیادت کے لیے منتخب کیا ہے اور یہاں سے نیا تنازع شروع ہو گیا‘ وہ کیا تھا یہ میں اگلے کالم میں عرض کروں گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نصیر اللہ بابر افغانستان میں آرتھر پاؤل کی افغانستان پر نے افغانستان افغانستان کے جس کے بعد کی مدد سے کی وجہ سے ظاہر شاہ سے افغان کا کارڈ گیا اور چناں چہ شروع ہو اور ان اور یہ ہو گیا کے لیے شاہ کا

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی