تقریب میں ایک کھلاڑی کیساتھ آکر ایشیا کپ ٹرافی لے جائیں: محسن نقوی کا بھارتی خط پر دو ٹوک جواب
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی نے ایشیا کپ کی ٹرافی کے لیے لکھے گئے بھارتی بورڈ کے خط کا جواب دے دیا۔ذرائع کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی وصول کرنے کے لیے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی کو خط لکھا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر نے بی سی سی آئی کے خط کا جواب دے دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ٹرافی چاہیے توتقریب منعقد کرتے ہیں اور اس میں وصول کرلیں۔ذرائع نے بتایا کہ ایشین کرکٹ کونسل نے بھارتی بورڈ کو آگاہ کردیا ہے کہ ایشیا کپ ٹرافی 10 نومبر کو دی جا سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق ایشین کرکٹ کونسل کی جانب سے بھارتی بورڈ کو ٹرافی دینے کی تقریب 10 نومبر کو رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہےکہ بھارتی بورڈ عہدیدار کسی ایک کھلاڑی کے ساتھ آکر تقریب میں ٹرافی وصول کرسکتے ہیں۔واضح رہے کہ ایشیا کپ 2025 کی فاتح بھارتی ٹیم نے اے سی سی کے صدر محسن نقوی سے فائنل میچ جیتنے کے بعد ٹرافی وصول نہیں کی تھی جس پر محسن نقوی نے ٹرافی واپس اے سی سی کے دفتر بھجوا دی تھی۔بھارتی بورڈ کی ہٹ دھرمی پر محسن نقوی نے کہا تھا کہ اگر بھارتی کپتان کو ٹرافی چاہیے تو میرے دفتر آکر لے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایشین کرکٹ کونسل کے صدر بھارتی بورڈ محسن نقوی ایشیا کپ
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔