وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی ) کے چیئرمین کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی۔

وزارت صنعت و پیداوار کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں صنعتی و روزمرہ استعمال کے لیے توانائی کے مؤثر ماڈلز اور پائیدار توانائی کے طریقوں پر بریفنگ دی گئی۔

چیئرمین این ٹی ڈی سی نے بتایا کہ عمارتوں میں انسولیشن کے استعمال سے توانائی کی خاطر خواہ بچت ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسولیشن کے ذریعے عمارتوں کا درجہ حرارت مطلوبہ سطح پر برقرار رکھا جا سکتا ہے جس سے توانائی کی کھپت میں نمایاں کمی آتی ہے۔

چیئرمین کے مطابق اسی مقصد کے تحت توانائی استعمال بلڈنگ کوڈ متعارف کرائے گئے ہیں جن پر وفاقی حکومت نے عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے۔

معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار توانائی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرمیوں میں صنعتوں اور روزمرہ زندگی میں توانائی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور اس طلب کو پورا کرنے کے لیے عمارتوں میں انسولیشن کا فروغ ایک مؤثر اور کم لاگت حل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ براہِ راست توانائی کی لاگت سے وابستہ ہے اس لیے علاقائی مسابقت کے لیے صنعتوں میں پائیدار توانائی کے طریقے اپنانا ناگزیر ہے۔

ہارون اختر خان نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ این ٹی ڈی سی کے ساتھ مل کر توانائی بچت سے متعلق عملی اقدامات پر پیش رفت بارے رپورٹ تیار کرے۔

اس موقع پر لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز کے وفد نے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کو ایشیا ٹرانزٹ سمٹ 2025 میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہارون اختر خان توانائی کی کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
  • توانائی بچت مہم، وزیراعظم نے کاروباری اوقات کار کی منظوری دیدی
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع