وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے پاک فوج کی قیادت کی حمایت کی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بانی پاکستان سے متعلق ریاستی ادارے کے موقف کو واضح اور قابل تحسین قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شخص جو پاک فوج کے خلاف جھوٹا بیانیہ پھیلانے اور منفی مہم چلانے کی کوشش کرتا ہے، کسی رعایت کا مستحق نہیں۔
اویس لغاری نے 5 دسمبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو پوری قوم کی آواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سچائی اور شفافیت نمایاں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خود کو عقل کل سمجھنے والا یہ شخص بھول گیا تھا کہ وہ دراصل مخصوص قوتوں کا آلہ کار تھا، اور ترجمان پاک فوج نے اس کا اصل چہرہ قوم کے سامنے بے نقاب کر دیا۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ آزادیٔ اظہار اہم ہے، لیکن یہ کبھی بھی ملکی سالمیت اور فوجی وقار سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کے نام پر دشمنی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔
اویس لغاری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کی بھی تعریف کی، جنہوں نے 8 گنا طاقتور دشمن کو شکست دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا اور پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف واضح اور مضبوط پالیسی فیلڈ مارشل کا قابلِ فخر کارنامہ ہے، اور پاکستان ان کی قیادت میں ترقی اور وقار کے راستے پر گامزن رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اویس لغاری نے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔