پیپلز کانفرنس کے چیئرمین نے کہا کہ عمر میں چھوٹ دینے میں ناکامی نے جے کے اے ایس کے سینکڑوں امیدواروں کے کیریئر کے امکانات کو مؤثر طریقے سے تباہ کردیا ہے جنہوں نے برسوں سے تیاری کی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون نے اتوار کو حکومت کی جانب سے جے کے اے ایس امیدواروں کو عمر میں رعایت نہ دینے کے فیصلے پر سخت تنقید کی، یہ کہتے ہوئے کہ یہ مسئلہ برسوں سے التوا میں تھا اور اسے آخری وقت کا مطالبہ قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ امیدواروں کو عمر میں رعایت نہ ملنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سجاد احمد لون نے کہا کہ منتخب حکومت کے پاس اس معاملے کو نمٹانے کے لئے کسی نئی نوٹیفکیشن کا انتظار کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمر میں رعایت ایک سہولتی شق رہی ہے جو ماضی میں بارہا دی گئی اور اسے بروقت حل کیا جانا چاہیئے تھا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ پاور شیئرنگ انتظام میں حکومت کے پاس فائل کو پروسیس کرنے کے لئے کافی وقت تھا، امتحان کی نوٹیفکیشن 22 اگست کو جاری ہوئی اور 6 نومبر کی دوسری نوٹیفکیشن میں 7 دسمبر کو امتحان کی تاریخ مقرر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ جب اتنا اہم مسئلہ حل طلب تھا تو حکومت اس دوران کس چیز میں مصروف تھی۔ سجاد لون نے کہا کہ تاخیر اور غیر فیصلہ کن رویے کے باعث جے کے اے ایس امیدواروں کے خواب چکناچور ہوگئے جو عمر میں رعایت کے بارے میں وضاحت کا انتظار کر رہے تھے۔ ایل جی آفس کی جانب سے جاری وضاحت کا حوالہ دیتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ اب وزیراعلیٰ پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنا مؤقف واضح کریں۔

انہوں نے پوچھا کہ وزیراعلیٰ اپنی قسمت کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن ایل جی آفس کی وضاحت کے بعد ان پر لازم ہے کہ وہ ایک ایک نکتے کا جواب دیں اور مؤقف صاف کریں۔ سجاد لون نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ انہیں کچھ معلوم نہیں، آخر کب تک لوگ ایسی تکلیف اٹھاتے رہیں گے۔ صورتحال کو انتہائی ستم ظریفی قرار دیتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ یہ تعجب خیز ہے کہ ایک موجودہ وزیراعلیٰ ایک دیرینہ مطالبہ پر حکم جاری کرنے کو یقینی بنانے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی کرسی کا وقار داؤ پر لگا ہوا ہے، انہیں واضح طور پر بتانا چاہیئے کہ کیا ہوا اور کون ذمہ دار ہے۔

سجاد لون نے الزام لگایا کہ عمر میں چھوٹ دینے میں ناکامی نے جے کے اے ایس کے سینکڑوں امیدواروں کے کیریئر کے امکانات کو مؤثر طریقے سے تباہ کر دیا ہے جنہوں نے برسوں سے تیاری کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کو یقینی بنایا جانا چاہیئے اور امیدواروں کو مزید تاخیر کے بغیر وضاحت فراہم کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے اس معاملے پر ان کی پارٹی کے موقف کو غیر مبہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمر میں چھوٹ دی جانی چاہیئے اور شفافیت اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے لئے امتحان کو ملتوی کیا جانا چاہیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سجاد لون نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ عمر میں رعایت جے کے اے ایس کہ عمر میں

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا