انسداد دہشت گردی عدالت کا جی ایچ کیو حملہ کیس کے تمام ملزمان کی پیشی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کے تمام ملزمان کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔گزشتہ روز کی سماعت میں طلب کیے گئے 3 گواہ پولیس سب انسپکٹرز عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 5 نومبر تک ملتوی کردی۔ عدالت میں جمع کرائی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق افسران گواہ کرکٹ اسٹیڈیم سیکورٹی ڈیوٹی پر ہیں، جس کی وجہ سے گواہ عدالت پیش نہیں ہوسکتے۔ جج امجد علی شاہ کے روبرو ہونے والی سماعت میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل روبکار پر حاضری لگائی گئی۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت اڈیالہ جیل میں ہوگی اور آئندہ تاریخ پر 3 گواہوں کو اڈیالہ جیل میں پیش ہونے کے نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے تمام ملزمان کو بھی 5 نومبر کو جیل عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی عدالت میں پیشی کے بعد واپس روانہ ہو گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت میں عدالت نے میں پیش
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔