Jasarat News:
2026-06-03@07:51:52 GMT

بہار اسمبلی انتخابات۔ مودی کا وقار دائو پر

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

2
سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی گو کہ نیتیش کے سہارے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے، مگر نتائج کے بعد ان کو کنارے کرنے کے امکانات بھی ڈھونڈ رہی ہے، جس طرح اس نے مہاراشٹرہ میں شیو سینا کے سہارے ووٹ تو لیے مگر پھر ان کو دودھ میں مکھی کی طرح قیادت سے باہر نکال دیا۔ بی جے پی، چونکہ تاریخی طور پر اونچی ذات کی پارٹی رہی ہے، اس لیے وہ ذات پات کی سیاست سے پرہیز کرتی رہی ہے۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ ہندو اتحاد کے نعرے کے ساتھ ساتھ بی جے پی نے ذاتوں کو اپنے بیانیے میں سمو لیا ہے۔ وہ اب ذات پات کو مٹانے کی نہیں، بلکہ اس کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ پارٹی نے بہار کے ایک سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی کرپوری ٹھاکر کو اعلیٰ ترین سویلین ایوارڈ بھارت رتن دے کرای بی سی طبقے میں رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طبقہ کے لیے قرض معافی، اور دیہی روزگار پروگراموں میں ترجیحی حصہ دیکر وہ اس طبقہ میں ایک طرح کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ دوسری طرف راشٹریہ جنتا دل، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد جس کو عظیم اتحاد یا مہا گٹھ بندھن کہتے ہیں ظاہری طور پر ذات پات کی بیداری کا سب سے فطری وارث تھا۔ مگر اندر سے اس اتحاد کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہیں۔ حکومت کے خلاف ناراضی کا فائدہ اٹھانے کی اس کی کوششیں نشستوں کی تقسیم کی لڑائی میں دب گئی ہے۔ لگتا ہے کہ اس کے پاس ووٹر ہے مگر وژن نہیں۔ اس اتحاد کی کلیدی پارٹی راشٹریہ جنتا دل کا ووٹ بینک مسلم اور یادو یعنی ایم وائی رہا ہے۔ اس کے لیڈر تیجسوی یادو اگرچہ پرعزم دکھائی دیتے ہیں، مگر پرانے یادو لیڈران کی نوجوان قیادت پر کھلے عام اعتماد نہیں کرتے ہیں۔ چونکہ ان کے ووٹ بینک میں مودی نے بھی سیندھ لگائی ہے، اس لیے وہ بھی اب دلتوں اور ای بی سی طبقات کے امیدوار کھڑے کرکے ووٹ بینک کی بھر پائی کرنا چاہتے ہیں۔ کانگریس جو پچھلے تین انتخابات میں مہاگٹھ بندھن کا کمزور کڑی سمجھی جاتی تھی، اس بار قدرے جارح دکھائی دے رہی ہے۔ مگر اس کی زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر لڑنے کی چاہت ہی اس کو ڈبونے کا سامان کرسکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کانگریس نظریاتی طور پر بیدار ضرور ہوئی ہے، مگر تنظیمی سطح پر اب بھی سست ہے۔ بہار کی زمین پر لڑائی بیانیہ سے زیادہ نیٹ ورک سے لڑی جاتی ہے۔ اس میدان میں بی جے پی سب سے مضبوط ہے۔ بہار میں مسلمان آبادی کا 17.

7 فی صد ہیں، مگر ان کی نمائندگی اسمبلی میں 8 فی صد سے بھی کم رہی ہے۔ ان انتخابات میں بی جے پی نے کسی مسلمان امیدوار کو نامزد نہیں کیا۔ جبکہ اس کے پاس سابق مرکزی وزیر شاہ نواز حسین کی صورت میں ایک مضبوط امیدوار موجود تھا۔ کانگریس اور جنتا دل یونائٹڈ نے صرف چار چار مسلمانوں کو ٹکٹ دیے۔ کٹیہار، ارریہ، پورنیہ اور کشن گنج کے اضلاع میں 40 فی صد سے زیادہ مسلمان ووٹر ہیں۔ یہ احساس اب مسلمانوں کو گھر کرتا جا رہا ہے کہ وہ صرف گنتی میں ہیں، قیادت میں نہیں۔ اسی خلا کو حیدر آباد کے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین اور ایک نئی جماعت پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی پور ا کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔ اویسی نے اس بار 100 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں، جن میں زیادہ تر مسلم اکثریتی حلقے شامل ہیں۔ اسی طرح بی جے پی کے اتحادی چراغ پاسوان 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 29 نشستیں جیت کر بہار کی سیاست میں مرکزی کردار بن چکے ہیں۔ ان کا نعرہ ’’بہار فرسٹ، بہاری فرسٹ‘‘ ریاستی وقار کا نیا استعارہ ہے۔ چراغ خود کو ’’دلت نوجوان قیادت‘‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ بی جے پی انہیں نیتیش کے خلاف توازن کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ان انتخابات کی ایک نئی انٹری پرشانت کشور کی ہے، جو ماضی میں کئی پارٹیوں کے لیے انتخابی حکمت عملی کار کے بطور کام کر چکے ہیں۔ اب وہ خود ہی سیاست میں اتر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’’ہم اقتدار کے لیے نہیں، نظام بدلنے کے لیے سیاست میں آئے ہیں‘‘۔ اگر وہ تین سے پانچ فی صد ووٹ بھی حاصل کرلیں، تو یہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو ہی نقصان کریگا۔ کورونا وبا کے دوران بہار کے لاکھوں مزدور بغیر روزگار اور بغیر مدد کے واپس لوٹے۔ یہ تجربہ ان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن چکا ہے۔ پرشانت کشور نے انہیں اپنی سیاست کا مرکز بنادیا ہے۔ ان کے جلسوں میں سب سے زیادہ نعرہ گونجتا ہے: ’’ہمیں فرقہ واریت نہیں، کام چاہیے۔ ہمیں وعدے نہیں، روٹی چاہیے‘‘۔ یہ وہ زبان ہے جس نے نوجوانوں اور مزدوروں کو ایک پلیٹ فارم پر جوڑ دیا ہے۔ روزی، عزت، حصہ داری کے نعرے دیہاتوں میں سنائی دینے لگے ہیں۔ تجزیہ کارو ں کا کہنا ہے کہ یہ ایک نیا بہار ہے، جو خالی وعدوں سے اب شاید نہیں چلے گا۔ بی جے پی کے لیے یہ الیکشن اس کے ہندتوا نظریے کی بقا کا سوال ہے۔ پارٹی کے اندر خود کئی سطحوں پر بے چینی ہے۔ ایک طرف اتر پردیش ماڈل کا دبائو ہے۔ جہاں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہندو قوم پرستی اور مسلمانوں کے تئیں نفرت نے ان کو انتخابی کامیابی دلا دی۔ دوسری طرف بہار میں وہی فارمولا ذات پات کے پیچیدہ نظام کی وجہ سے ناکام ہو رہا ہے۔ فرنٹ لائن جریدہ کے مطابق بی جے پی ہر ذات کو اپنی الگ پالیسی سے جوڑ رہی ہے، تاکہ انہیں اجتماعی شناخت کے بجائے انفرادی مفادات میں الجھایا جا سکے۔ پارٹی کے تھنک ٹینک کا ماننا ہے کہ اگر 112 ذیلی ذاتیں اپنے اپنے مفاد میں مصروف رہیں، تو کوئی ایک متحد سیاسی بیانیہ اونچی ذاتوں کے خلاف نہیں بن سکے گا۔ اسی حکمت کے تحت بی جے پی ہر ذات کے لیے الگ ’’وعدوں کی فہرست‘‘ جاری کر رہی ہے۔ مثلاً کشواہا برادری کے لیے کرپوری ٹھاکر یوجنا، ملاحوں کے لیے گنگا متسیا سکھ شکتی اسکیم، اور بھومیہار طبقے کے لیے کسان کرج راحت پیکیج۔ ان کی وجہ سے ہر برادری انفرادی طور پر فیصلہ کریں گے۔ مگر سوال یہ ہے کیا بہار کے باشعور ووٹر اس حکمت عملی کے آگے جھکیں گے؟ (بشکریہ: 92 نیوز)

افتخار گیلانی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سے زیادہ بی جے پی چکے ہیں ذات پات کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

  جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی

فیصل جمیل :گلگت بلتستان انتخابات 2026 کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں،انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہوگی۔

 الیکشن سے قبل ہی حاجی اکبر تابان امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی، مہا جرین 1971 نے مسلم ن کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

  دوسری جانب  چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول آصفہ بھٹو آج گلگت اور ہنزہ کا دورہ کریں گے، دونوں رہنما ہنزہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کی گلگت میں پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر  سکردو اور دیگر اضلاع میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف رہیں گے، وہ پارٹی رہنماؤں کے انتخابی دفاتر کا دورہ کریں گے اور کارکنان سے بھی خطاب کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق، عابد شیر علی، مرتضیٰ جاوید عباسی اور عابد رضا کوٹلہ مختلف مقامات پر جلسوں سے خطاب کریں گے۔

  پارٹی ذرائع کے مطابق ن لیگی رہنما آج مجموعی طور پر چار مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 ادھر وفاقی وزیر انجنئیر امیر مقام بھی گلگت میں موجود ہیں جہاں ان کی مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔

 گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوششیں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں ۔
 

متعلقہ مضامین

  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب