ملتان، ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کی صوبائی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس، تنظیمی صورتحال کا جائزہ لیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
صوبائی آرگنائزر علامہ قاضی نادر حسین علوی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے ملک کے دیگر حصوں کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی سیلاب متاثرین کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے، ہم پاکستان کی داخلہ خودمختاری کے قائل ہیں کسی بھی دشمن کو پاکستان کی جانب میلی آنکھ دیکھتے کی اجازت نہیں دیںگے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کی صوبائی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس صوبائی آرگنائزر علامہ قاضی نادر حسین علوی کی زیرصدارت جامعہ شہید مطہری ملتان میں منعقد ہوا، اجلاس میں صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اراکین مولانا سید فرخ مہدی، سید ندیم عباس کاظمی، سید جواد رضا جعفری، سید احسان حیدر نقوی، سید علی رضا زیدی، سید ثقلین نقوی شریک ہوئے جبکہ مرکز کی جانب سے انجینئر سخاوت علی سیال نے نمائندگی کی۔ اجلاس میں گزشتہ سہ ماہی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور اگلی سہہ ماہی کا پروگرام طے کیا گیا۔ صوبائی آرگنائزر علامہ قاضی نادر حسین علوی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے ملک کے دیگر حصوں کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی سیلاب متاثرین کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے، ہم پاکستان کی داخلہ خودمختاری کے قائل ہیں کسی بھی دشمن کو پاکستان کی جانب میلی آنکھ دیکھتے کی اجازت نہیں دیںگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کی
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔