نیب کی سال 2025کی تیسری سہ ماہی میں 11کھرب روپے سے زائد کی بازیابی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
نیب کی سال 2025کی تیسری سہ ماہی میں 11کھرب روپے سے زائد کی بازیابی WhatsAppFacebookTwitter 0 23 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)نیب کی سال 2025کی تیسری سہ ماہی میں 11 اعشاریہ02کھرب روپے کی بازیابی، قومی خزانے کی آمدنی میں بے مثال اضافہ۔تفصیلات کے مطابق نیب کی حالیہ بازیابی پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں 242 فیصد زائد ہے۔ نیب نے 2025 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں مجموعی طور پر 1649 اعشاریہ36ارب روپے (5 اعشاریہ16کھرب روپے)کی ریکوری کی ہے۔
اس سہ ماہی میں عوامی دھوکہ دہی کے مختلف مقدمات میں 17 ہزار 194متاثرین، نیب کی ریکوریز کی بدولت مستفید ہوئے، نیب کراچی نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مقدمے میں 2 اعشاریہ8ارب روپے مالیت کے 2قیمتی پلاٹ بازیاب کر کے کے پی ٹی کے حوالے کئے۔ نیب سکھر نے 2 اعشاریہ5ارب روپے مالیت کی نیشنل ہائی اتھارٹی کی 361ایکڑ اضافی اراضی کی بازیابی کی۔اس سہ ماہی کے دوران نیب نے 1 اعشاریہ39ملین ایکڑپر محیط منگرووز جنگلات کی اراضی بازیاب کرائی، جس کی مالیت 1104 اعشاریہ97ارب روپے ہے۔ جنگلات کی اراضی کی کل ریکوری 2592 اعشاریہ74ارب روپے(25اعشاریہ 9کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ نیب بلوچستان نے جنگلات کی 414036 ایکڑ اراضی بازیاب کرای کی، جس کی مالیت 44 اعشاریہ8ارب روپے ہے۔ نیب خیبر پختونخواہ نے 3 اعشاریہ 2ارب کی غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئی ریاستی اراضی ریکور کر کے وزارت صنعت و پیداوار، حکومت پاکستان کے حوالے کی۔ نیب نیب نے عوامی دھوکہ دہی کے متاثرین کا ازالہ کرتے ہوئے بی فور یوکیس کے 5008متاثرین کو پہلی باررقوم کی آن لائن ادائیگی/تقسیم کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرائیر چیف مارشل کا رومانیہ کا سرکاری دورہ، دفاعی تعاون کے فروغ پر اتفاق ائیر چیف مارشل کا رومانیہ کا سرکاری دورہ، دفاعی تعاون کے فروغ پر اتفاق اپنی چھت اپنا گھر منصوبے سے عام آدمی کو ریاست ماں جیسی ہونے کا حقیقی احساس ہوا، مریم نواز نام نہاد اسرائیلی خودمختاری کو مغربی کنارے تک توسیع دینے کی کوشش، پاکستان کا شدید اظہار مذمت وزیر اعظم کا صنعتوں اور کسانوں کے لیے رعایتی بجلی پیکیج کا اعلان نیب کی ریکارڈ ریکوری سے قومی خزانے کی آمدنی میں بے مثال اضافہ اسلام آباد میں نیا کنونشن سنٹر، کرکٹ اسٹیڈیم اور سی ڈی اے ہسپتال کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سہ ماہی میں کی بازیابی نیب کی
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔