خیبرپختونخوا حکومت کا پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل بحال کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
خیبرپختونخوا حکومت کا پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل بحال کرنے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 October, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز)محکمہ خوراک خیبرپختونخوا نے وزیراعلی سہیل آفریدی کی ہدایت پر پنجاب حکومت کو خط ارسال کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کی جانب سے گندم کی بندش سے خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
محکمہ خوراک خیبرپختونخوا نے وزیراعلی محمد سہیل آفریدی کی ہدایت پر پنجاب حکومت کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی بندش سے خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث صوبے میں آٹے کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
محکمہ خوراک نے موقف اپنایا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 151(1)کے تحت صوبوں کے درمیان آزادانہ تجارت وفاق کی ضمانت ہے، لہذا پنجاب حکومت کا گندم روکنے کا اقدام وفاقی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی کے اصولوں کے منافی ہے۔خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پنجاب سے گندم اور آٹے کی آزادانہ ترسیل یقینی بنانے کے لیے تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگزشتہ سال حج کرنے والوں کو ساڑھے تین ارب روپے واپس کرنے کا فیصلہ گزشتہ سال حج کرنے والوں کو ساڑھے تین ارب روپے واپس کرنے کا فیصلہ اسرائیل مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے سے باز رہے بصورت دیگر سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، ٹرمپ خواہش ہے بلڈ بنک کی طرح آئی بینک بھی قائم کیا جائے ، معروف ڈاکٹر راشد حسین نت عدالتی بینچ خواہشات کے مطابق نہیں ،آئین و قانون کے مطابق بنیں گے، سپریم کورٹ مقبوضہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کا فیصلہ مسترد، عالمی برادری اقدامات کرے، پاکستان پاک چین عدالتی تعاون کیلئے سپریم کورٹس کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخطCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پنجاب سے گندم اور آٹے کی کرنے کا
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔