WE News:
2026-07-24@02:38:43 GMT

اے آئی چیٹ بوٹس غلط اور ناقص معلومات فراہم کررہے ہیں، انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT

اے آئی چیٹ بوٹس غلط اور ناقص معلومات فراہم کررہے ہیں، انکشاف

یورپی نشریاتی یونین (ای بی یو) کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت  (اے آئی) سے چلنے والے چیٹ بوٹس اکثر غلط، مبہم  معلومات فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر خبروں اور موجودہ واقعات سے متعلق سوالات کے جوابات میں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ہم خبروں کے حوالے سے مصنوعی ذہانت پر اعتبار کرسکتے ہیں؟  

’نیوز انٹیگریٹی ان اے آئی اسسٹنٹس‘ کے عنوان سے 22 اکتوبر 2025 کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق معروف اے آئی چیٹ بوٹس بشمول اوپن اے آئی کا  چیٹ جی پی ٹی، مائیکروسافٹ کا کوپائلٹ، گوگل کا جیمنی اور پرپلیسیٹی متعدد مواقع پر خبری حقائق کو مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ تحقیق کے دوران 18 ممالک کی 22 پبلک میڈیا تنظیموں نے 14 زبانوں میں ٹیسٹ کیے، جن میں یہ دیکھا گیا کہ مختلف اے آئی پلیٹ فارمز خبروں سے متعلق سوالات کے کیا جوابات دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی ٹی وی چینل نے اے آئی اینکر متعارف کرا دی

نتائج کے مطابق زیادہ تر جوابات میں خبری تفصیلات کو طنزیہ یا فرضی مواد کے ساتھ ملا دیا گیا، غلط تاریخیں دی گئیں یا واقعات کے تسلسل میں گڑبڑ کی گئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ تقریباً نصف جوابات میں کم از کم ایک بنیادی مسئلہ موجود تھا، جبکہ ہر5 میں سے ایک جواب میں سنگین غلطیاں، غیر حقیقی تفصیلات یا پرانی معلومات شامل تھیں۔

یہ مطالعہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی سابقہ تحقیق پر مبنی تھا، جس میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ اے آئی چیٹ بوٹس اکثر غیر مصدقہ یا متضاد معلومات دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ارب پتی بن جانے والا اے آئی چیٹ بوٹ اب خود کو انسان قرار دلوانے کا خواہاں!

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت نے مختلف شعبوں میں کارکردگی، مواد کی تخلیق اور روزمرہ کے کاموں میں سہولت پیدا کی ہے، تاہم خبروں، طب اور مالیاتی امور جیسے حساس شعبوں میں اس کے استعمال میں احتیاط برتنا ناگزیر ہے، کیونکہ ان میں غلط معلومات کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اے آئی جیمنی چیٹ جی پی ٹی خبریں غلط معلومات مصنوعی ذہانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی چیٹ جی پی ٹی غلط معلومات مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹس اے ا ئی اے آئی ئی چیٹ

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف