Express News:
2026-07-24@08:05:53 GMT

ماحولیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی

اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT

پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ گلوبل وارمنگ، زراعت کی مشکلات، قدرتی آفات کی شدت میں اضافہ اور صحت کے مسائل انسانی زندگیوں اور معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔

اس کی وجہ سے کئی قدرتی آفات جیسے سیلاب، خشک سالی، گرمی کی لہریں، شدید بارشیں، اور زراعت کے شعبے میں نقصانات کا سامنا ہو رہا ہے۔ دراصل موسمیاتی تبدیلی فضائی معیار(ائیر کوالٹی) کو متاثر کرتی ہے جب کہ فضائی آلودگی موسمیاتی تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ ہے جس کے نتیجے میںگلوبل وارمنگ بڑھ رہی ہے۔

ماحولیاتی آلودگی کی مختلف اقسام ہیں جن میں فضائی آلودگی جو گاڑیوں صنعتوں اور بجلی کے پلانٹس سے خارج ہونے والے دھوئیں اور زہریلی گیسیں جیسے کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ سے پیدا ہوتی ہے۔ دوسری قسم آبی آلودگی ہے جو فیکٹریوں کا فضلہ اور گندا پانی دریا اور سمندروں میں پھینکنے سے بنتی ہے۔

پلاسٹک اور دیگر غیر حیاتیاتی مواد کی موجودگی سے بھی آبی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ زمینی آلودگی کیمیکل فرٹیلائزرز اور پلاسٹک کا بے دریغ استعمال فضلے کو زمین میں دفن کرنا غیر معیاری ایندھن کے استعمال جنگلات کی کٹائی شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی صنعتی اور ٹریفک کی سرگرمیاں ماحولیاتی قوانین کا نفاذ نہ ہونا فضائی آلودگی کے بڑے اسباب ہیں۔

لاہور شہر متعدد بار دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسموگ کی صورتحال موسم سرما میں شدت اختیار کر جاتی ہے مگر درحقیقت یہ وہ آلودگی ہے جو سارا سال فضا میں موجود رہتی ہے۔ یونیورسٹی آف شکاگو میں دنیا بھر کے ممالک میں فضائی آلودگی کے بارے میں ہونے والی ایک تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں رہنے والے افراد کی متوقع عمر ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے باعث چار سال تک بڑھ سکتی ہے، جب کہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث پاکستان کے شہریوں کی زندگی میں اوسط نو ماہ کی کمی ہو رہی ہے۔

نزلہ، کھانسی، گلا خراب، سانس کی تکلیف اور آنکھوں میں جلن وہ ظاہری علامات ہیں جو اسموگ کے باعث ہر عمر کے شخص کو بری طرح متاثر کرتی ہیں جب کہ اسموگ انسانی صحت کو ایسے نقصانات بھی پہنچاتی ہے جو بظاہر فوری طور پر نظر تو نہیں آتے لیکن وہ کسی بھی شخص کو موذی مرض میں مبتلا کر سکتے ہیں جیسا کہ پھیپھڑوں کا خراب ہونا یا کینسر شامل ہیں۔

پاکستان دنیا میں اپنی آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے۔ 25 کروڑ سے زائد نفوس کی حامل آبادی کی غذائی ضروریات کے لیے وسیع رقبے پر زراعت کی ضرورت ہے مگر یہ رقبہ بھی مسلسل اور بہت زیادہ ہاوسنگ سوسائٹیز کے جال در جال کی وجہ سے کم ہورہا ہے اور موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا اثر اس کی زراعت پر بھی پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں اسموگ اور سیلاب کی تباہ کاریاں اسی ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آئی ہیں۔

جس نے لوگوں کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔اس موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے املاک، جانوروں اور فصلوں کو بھی نقصان ہورہا ہے اور اس کے سبب بھوک و افلاس اور بیماریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔پاکستان کی آبادی کا تیز رفتاری سے بڑھنا بھی ماحولیاتی تبدیلی کے ایک اہم اسباب میں شامل ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ وسائل کی مانگ بڑھ رہی ہے جس سے ماحولیاتی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زیادہ آبادی کا مطلب ہے زیادہ توانائی کی ضرورت، زیادہ پانی کا استعمال، زیادہ زمین کا استعمال اور زیادہ فضلہ پیدا کرنا، جس سے ماحولیاتی توازن بگڑ رہا ہے۔پاکستان میں صنعتی آلودگی اور فضائی آلودگی کا مسئلہ بھی ماحولیاتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بڑی صنعتوں سے نکلنے والے دھوئیں اور فضائی آلودگی کی وجہ سے فضا میں زہریلے مادے شامل ہو رہے ہیں، جو نہ صرف ماحولیاتی توازن کو خراب کر رہے ہیں بلکہ صحت کے مسائل بھی پیدا کر رہے ہیں ۔

ہمارے ملک میں ابھی تک ماحولیاتی تبدیلی کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا اور ترقی کے نام پر زرخیز زمینوں، پہاڑوں اور چراگاہوں کو بلڈرز مافیا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ دریاؤں کی قدرتی گزرگاہوں پہ بند باندھ کر ڈیم بنائے جا رہے ہیں جس سے زراعت اور آبی حیات تباہی کے دہانے پر ہے۔

اس کے علاوہ سندھ کے شہر کراچی میں کیرتھر نیشنل پارک کی کٹائی کر کے زرعی زمین کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے انسان، جنگلی حیات سمیت ماحولیات کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ تھر پارکر میں پاک انڈیا بارڈر سے منسلک کارونجھر پہاڑ جس کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں کہ اس فطرتی حسن کے شاہکار اور جنگلی جیوت کی آماجگاہ کو بھی ترقی کے نام پر نیلام کیا جائے۔

 پاکستان میں بارشوں کے پیٹرن میں غیر متوقع تبدیلی آ رہی ہے۔ کبھی شدید بارشیں سیلاب کا سبب بنتی ہیں اور کبھی خشک سالی کی وجہ سے پانی کی کمی ہوتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان میں طوفانوں کی شدت بھی بڑھ رہی ہے۔ ان طوفانوں کی شدت سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوتے ہیں، جیسے کہ انفرا اسٹرکچر کی تباہی، زراعت کو نقصان اور جانی نقصان۔ایک نئی ریسرچ سے ظاہر ہوا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلیوں کے باعث سر درد، ڈیمنشیا، پٹھوں کی متعدد بیماریوں اور پار کسنز جیسے اعصابی امراض کی علامات بد تر شکل اختیار کر سکتی ہیں جب کہ فالج کے کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔طبی جریدے نیورولوجی کے آن لائن شمارے میں امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کی حال ہی میں شایع ہونے والی ایک تفصیلی تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے فالج کے مرض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

وزارت ماحولیات 2017میں قائم کی گئی جس کی بنیادی ذمے داری یہ تھی کہ وہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں ٹھوس اور جامع پالیسی بنائے تاکہ پاکستان کے مختلف علاقوں کو اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی جیسی آفتوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔ پاکستان میں چونکہ احتساب کا شفاف نظام ہی موجود نہیں ہے اس لیے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وزارت ماحولیات نے گزشتہ سات ، آٹھ برسوں کے دوران کیا فیصلے کیے اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ انتہائی افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے مالی وسائل کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے عوام کو مختلف نوعیت کے سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔

اگر پاکستان کی قومی دولت عوام کی فلاح و بہبود پر لگائی گئی ہوتی تو آج عوام اس طرح لاوارث اور بے بس نہ ہوتے۔ پاکستان کی ایک سیاسی جماعت نے ایک ارب درخت لگانے کا وعدہ کیا مگر افسوس یہ وعدہ پورا نہ کیا گیا۔ آج سے 40 سال قبل ٹاؤن پلاننگ کے ماہرین پاکستان آئے اور انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ پاکستان کے بڑے شہروں کے ارد گرد کم از کم 10 کلومیٹر کی گرین بیلٹ چھوڑی جائے تاکہ پاکستان کے بڑے شہروں کے ماحول صاف ستھرے اور پرسکون رہیں مگر افسوس کسی نے ان ماہرین کی صائب رائے پر توجہ ہی نہ دی۔ لینڈ مافیاز نے پاکستان کے بڑے شہروں کے ماحول کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔

پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات زراعت پر بھی بہت زیادہ ہورہے ہیں۔ فصلوں کی پیداوار، غذائیت اور مویشیوں کی پیداواری صلاحیت میں بھی واضح کمی آرہی ہے۔ ہم قدرتی وسائل پانی، خوراک لکڑی کا بے تحاشا اور بلا ضرورت استعمال کرتے ہیں اور ان کا بہت زیادہ ضیاع کرتے ہیں۔ ہم اپنی زمین کو پیداواری مقاصد کے بجائے غیر پیداواری مقاصدمیں استعمال کررہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جنگلات کا کل رقبہ 4 فیصد رہ گیا ہے جب کہ صحت مند ماحول کے لیے کم سے کم 20 فیصد جنگلات کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے۔

آج کل زمین کا 30 فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے، جن کا ایک اہم کام کاربن گیسیں جذب کرنا بھی ہے لیکن ہر سال 18 ملین ایکڑ رقبے پر پھیلے جنگلات کاٹ دیے جاتے ہیں۔فطرت کے حسن کو فیکٹریوں سے اٹھنے اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں نے دھندلا دیا ہے اور ساری فضا زہریلی بن گئی ہے۔ سمندروں اور دریاؤں میں فیکٹریوں اور کارخانوں سے نکلنے والے کیمیائی فضلے کی موجودگی نے پانی کو زہر آلود کر دیا ہے۔ فضائی آلودگی نے کرہ فضائی یعنی زمین کے حفاظتی غلاف اوزون کی تہہ کو کافی حد تک نقصان پہنچایا ہے جس سے سورج کی تیز شعاعوں کے ساتھ بالائے بنفشی لہریں بھی سطح زمین تک زیادہ مقدار میں پہنچنے لگی ہیں۔

 ماحولیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے جو متعدد محکمے شہری انتظامیہ اور صوبائی حکومتوں کے زیرانتظام موجود ہیں ،جن میں ہزاروں ملازمین وافسران لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں لیتے ہیں ،لیکن ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہیں ، صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ہر بات کا الزام وفاق پرلگانے کے بجائے اپنے زیرانتظام سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل پر بآسانی قابو پاسکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ماحولیاتی ا لودگی ماحولیاتی تبدیلی موسمیاتی تبدیلی کہ پاکستان کے فضائی ا لودگی میں اضافہ ہو پاکستان میں پاکستان کی ا لودگی کے جنگلات کا اور فضائی کی وجہ سے تبدیلی ا کے باعث بڑھ رہی رہے ہیں کے لیے رہی ہے کے بڑے جا رہا رہا ہے

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو