ماحولیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ گلوبل وارمنگ، زراعت کی مشکلات، قدرتی آفات کی شدت میں اضافہ اور صحت کے مسائل انسانی زندگیوں اور معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔
اس کی وجہ سے کئی قدرتی آفات جیسے سیلاب، خشک سالی، گرمی کی لہریں، شدید بارشیں، اور زراعت کے شعبے میں نقصانات کا سامنا ہو رہا ہے۔ دراصل موسمیاتی تبدیلی فضائی معیار(ائیر کوالٹی) کو متاثر کرتی ہے جب کہ فضائی آلودگی موسمیاتی تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ ہے جس کے نتیجے میںگلوبل وارمنگ بڑھ رہی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی کی مختلف اقسام ہیں جن میں فضائی آلودگی جو گاڑیوں صنعتوں اور بجلی کے پلانٹس سے خارج ہونے والے دھوئیں اور زہریلی گیسیں جیسے کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ سے پیدا ہوتی ہے۔ دوسری قسم آبی آلودگی ہے جو فیکٹریوں کا فضلہ اور گندا پانی دریا اور سمندروں میں پھینکنے سے بنتی ہے۔
پلاسٹک اور دیگر غیر حیاتیاتی مواد کی موجودگی سے بھی آبی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ زمینی آلودگی کیمیکل فرٹیلائزرز اور پلاسٹک کا بے دریغ استعمال فضلے کو زمین میں دفن کرنا غیر معیاری ایندھن کے استعمال جنگلات کی کٹائی شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی صنعتی اور ٹریفک کی سرگرمیاں ماحولیاتی قوانین کا نفاذ نہ ہونا فضائی آلودگی کے بڑے اسباب ہیں۔
لاہور شہر متعدد بار دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسموگ کی صورتحال موسم سرما میں شدت اختیار کر جاتی ہے مگر درحقیقت یہ وہ آلودگی ہے جو سارا سال فضا میں موجود رہتی ہے۔ یونیورسٹی آف شکاگو میں دنیا بھر کے ممالک میں فضائی آلودگی کے بارے میں ہونے والی ایک تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں رہنے والے افراد کی متوقع عمر ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے باعث چار سال تک بڑھ سکتی ہے، جب کہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث پاکستان کے شہریوں کی زندگی میں اوسط نو ماہ کی کمی ہو رہی ہے۔
نزلہ، کھانسی، گلا خراب، سانس کی تکلیف اور آنکھوں میں جلن وہ ظاہری علامات ہیں جو اسموگ کے باعث ہر عمر کے شخص کو بری طرح متاثر کرتی ہیں جب کہ اسموگ انسانی صحت کو ایسے نقصانات بھی پہنچاتی ہے جو بظاہر فوری طور پر نظر تو نہیں آتے لیکن وہ کسی بھی شخص کو موذی مرض میں مبتلا کر سکتے ہیں جیسا کہ پھیپھڑوں کا خراب ہونا یا کینسر شامل ہیں۔
پاکستان دنیا میں اپنی آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے۔ 25 کروڑ سے زائد نفوس کی حامل آبادی کی غذائی ضروریات کے لیے وسیع رقبے پر زراعت کی ضرورت ہے مگر یہ رقبہ بھی مسلسل اور بہت زیادہ ہاوسنگ سوسائٹیز کے جال در جال کی وجہ سے کم ہورہا ہے اور موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا اثر اس کی زراعت پر بھی پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں اسموگ اور سیلاب کی تباہ کاریاں اسی ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آئی ہیں۔
جس نے لوگوں کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔اس موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے املاک، جانوروں اور فصلوں کو بھی نقصان ہورہا ہے اور اس کے سبب بھوک و افلاس اور بیماریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔پاکستان کی آبادی کا تیز رفتاری سے بڑھنا بھی ماحولیاتی تبدیلی کے ایک اہم اسباب میں شامل ہے۔
بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ وسائل کی مانگ بڑھ رہی ہے جس سے ماحولیاتی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زیادہ آبادی کا مطلب ہے زیادہ توانائی کی ضرورت، زیادہ پانی کا استعمال، زیادہ زمین کا استعمال اور زیادہ فضلہ پیدا کرنا، جس سے ماحولیاتی توازن بگڑ رہا ہے۔پاکستان میں صنعتی آلودگی اور فضائی آلودگی کا مسئلہ بھی ماحولیاتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بڑی صنعتوں سے نکلنے والے دھوئیں اور فضائی آلودگی کی وجہ سے فضا میں زہریلے مادے شامل ہو رہے ہیں، جو نہ صرف ماحولیاتی توازن کو خراب کر رہے ہیں بلکہ صحت کے مسائل بھی پیدا کر رہے ہیں ۔
ہمارے ملک میں ابھی تک ماحولیاتی تبدیلی کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا اور ترقی کے نام پر زرخیز زمینوں، پہاڑوں اور چراگاہوں کو بلڈرز مافیا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ دریاؤں کی قدرتی گزرگاہوں پہ بند باندھ کر ڈیم بنائے جا رہے ہیں جس سے زراعت اور آبی حیات تباہی کے دہانے پر ہے۔
اس کے علاوہ سندھ کے شہر کراچی میں کیرتھر نیشنل پارک کی کٹائی کر کے زرعی زمین کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے انسان، جنگلی حیات سمیت ماحولیات کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ تھر پارکر میں پاک انڈیا بارڈر سے منسلک کارونجھر پہاڑ جس کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں کہ اس فطرتی حسن کے شاہکار اور جنگلی جیوت کی آماجگاہ کو بھی ترقی کے نام پر نیلام کیا جائے۔
پاکستان میں بارشوں کے پیٹرن میں غیر متوقع تبدیلی آ رہی ہے۔ کبھی شدید بارشیں سیلاب کا سبب بنتی ہیں اور کبھی خشک سالی کی وجہ سے پانی کی کمی ہوتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان میں طوفانوں کی شدت بھی بڑھ رہی ہے۔ ان طوفانوں کی شدت سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوتے ہیں، جیسے کہ انفرا اسٹرکچر کی تباہی، زراعت کو نقصان اور جانی نقصان۔ایک نئی ریسرچ سے ظاہر ہوا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلیوں کے باعث سر درد، ڈیمنشیا، پٹھوں کی متعدد بیماریوں اور پار کسنز جیسے اعصابی امراض کی علامات بد تر شکل اختیار کر سکتی ہیں جب کہ فالج کے کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔طبی جریدے نیورولوجی کے آن لائن شمارے میں امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کی حال ہی میں شایع ہونے والی ایک تفصیلی تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے فالج کے مرض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
وزارت ماحولیات 2017میں قائم کی گئی جس کی بنیادی ذمے داری یہ تھی کہ وہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں ٹھوس اور جامع پالیسی بنائے تاکہ پاکستان کے مختلف علاقوں کو اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی جیسی آفتوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔ پاکستان میں چونکہ احتساب کا شفاف نظام ہی موجود نہیں ہے اس لیے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وزارت ماحولیات نے گزشتہ سات ، آٹھ برسوں کے دوران کیا فیصلے کیے اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ انتہائی افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے مالی وسائل کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے عوام کو مختلف نوعیت کے سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔
اگر پاکستان کی قومی دولت عوام کی فلاح و بہبود پر لگائی گئی ہوتی تو آج عوام اس طرح لاوارث اور بے بس نہ ہوتے۔ پاکستان کی ایک سیاسی جماعت نے ایک ارب درخت لگانے کا وعدہ کیا مگر افسوس یہ وعدہ پورا نہ کیا گیا۔ آج سے 40 سال قبل ٹاؤن پلاننگ کے ماہرین پاکستان آئے اور انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ پاکستان کے بڑے شہروں کے ارد گرد کم از کم 10 کلومیٹر کی گرین بیلٹ چھوڑی جائے تاکہ پاکستان کے بڑے شہروں کے ماحول صاف ستھرے اور پرسکون رہیں مگر افسوس کسی نے ان ماہرین کی صائب رائے پر توجہ ہی نہ دی۔ لینڈ مافیاز نے پاکستان کے بڑے شہروں کے ماحول کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔
پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات زراعت پر بھی بہت زیادہ ہورہے ہیں۔ فصلوں کی پیداوار، غذائیت اور مویشیوں کی پیداواری صلاحیت میں بھی واضح کمی آرہی ہے۔ ہم قدرتی وسائل پانی، خوراک لکڑی کا بے تحاشا اور بلا ضرورت استعمال کرتے ہیں اور ان کا بہت زیادہ ضیاع کرتے ہیں۔ ہم اپنی زمین کو پیداواری مقاصد کے بجائے غیر پیداواری مقاصدمیں استعمال کررہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جنگلات کا کل رقبہ 4 فیصد رہ گیا ہے جب کہ صحت مند ماحول کے لیے کم سے کم 20 فیصد جنگلات کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے۔
آج کل زمین کا 30 فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے، جن کا ایک اہم کام کاربن گیسیں جذب کرنا بھی ہے لیکن ہر سال 18 ملین ایکڑ رقبے پر پھیلے جنگلات کاٹ دیے جاتے ہیں۔فطرت کے حسن کو فیکٹریوں سے اٹھنے اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں نے دھندلا دیا ہے اور ساری فضا زہریلی بن گئی ہے۔ سمندروں اور دریاؤں میں فیکٹریوں اور کارخانوں سے نکلنے والے کیمیائی فضلے کی موجودگی نے پانی کو زہر آلود کر دیا ہے۔ فضائی آلودگی نے کرہ فضائی یعنی زمین کے حفاظتی غلاف اوزون کی تہہ کو کافی حد تک نقصان پہنچایا ہے جس سے سورج کی تیز شعاعوں کے ساتھ بالائے بنفشی لہریں بھی سطح زمین تک زیادہ مقدار میں پہنچنے لگی ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے جو متعدد محکمے شہری انتظامیہ اور صوبائی حکومتوں کے زیرانتظام موجود ہیں ،جن میں ہزاروں ملازمین وافسران لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں لیتے ہیں ،لیکن ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہیں ، صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ہر بات کا الزام وفاق پرلگانے کے بجائے اپنے زیرانتظام سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل پر بآسانی قابو پاسکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ماحولیاتی ا لودگی ماحولیاتی تبدیلی موسمیاتی تبدیلی کہ پاکستان کے فضائی ا لودگی میں اضافہ ہو پاکستان میں پاکستان کی ا لودگی کے جنگلات کا اور فضائی کی وجہ سے تبدیلی ا کے باعث بڑھ رہی رہے ہیں کے لیے رہی ہے کے بڑے جا رہا رہا ہے
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز