ٹی ایل پی پر پابندی کے بعد مریم نواز کے سیکورٹی عملے کی سخت اسکریننگ شروع
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے سیکورٹی اسٹاف اور دیگر عملے کی جامع اسکریننگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے اور حساس سرکاری مقامات پر کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے کیا گیا ہے۔
مریم نواز کے ذاتی سیکورٹی اہلکاروں سمیت جاتی عمرہ اور وزیراعلیٰ آفس میں تعینات تمام عملے کی مکمل جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اسکریننگ میں پولیس، اسپیشل برانچ اور دیگر حساس ادارے باہمی رابطے کے ذریعے ہر اہلکار کے پس منظر اور تعلقات کی جانچ کر رہے ہیں۔
یہ عمل نہ صرف سیکورٹی اہلکاروں بلکہ انتظامی اور معاون عملے تک پھیلایا گیا ہے تاکہ کسی بھی شخص کا کالعدم تنظیموں، خصوصاً ٹی ایل پی سے کوئی تعلق ثابت ہونے پر اسے فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد وزیراعلیٰ پنجاب کی سیکورٹی کو مکمل طور پر شفاف اور خطرات سے پاک بنانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسکریننگ میں ہر فرد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، سابقہ ریکارڈ، سیاسی یا مذہبی وابستگی اور فیملی بیگراؤنڈ تک کی چھان بین کی جا رہی ہے اور اگر کسی اہلکار کا کسی کالعدم تنظیم یا مشتبہ گروہ سے رابطہ پایا گیا تو اسے سیکورٹی ڈیوٹی سے ہٹایا جائے گا ۔
یہ عمل مذہبی جماعت کے خلاف جاری حالیہ آپریشن اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ پابندی کے نوٹی فکیشن کے بعد شروع کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے پنجاب حکومت کی سفارش پر تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔