تھائی لینڈ کے بادشاہ مہا وجیرا لونگکورن کی والدہ اور سابق ملکہ سرکِت جو 93 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

ملکہ سرکت اپنے زمانے میں فیشن اور وقار کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ اسی زمانے میں وہ بین الاقوامی طور پر "بہترین لباس" زیب تن کرنے والوں کی فہرستوں میں شامل رہتی تھیں۔

انہیں قوم کی ماں کے طور پر جانا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ ان کی سالگرہ 12 اگست کو تھائی لینڈ میں ’مدرز ڈے‘ کے طور پر منائی جاتی ہے۔

ملکہ سرکِت کو 2012 میں فالج کا حملہ ہوا تھا جس کے بعد وہ شاذونادر ہی عوامی تقریبات میں نظر آئیں۔

تھائی شاہی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملکہ سرکِت بینکاک کے ایک اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ 2019 سے مختلف امراض میں مبتلا تھیں اور رواں ماہ انھیں خون کے انفیکشن کا بھی سامنا تھا۔

ملکہ سرکِت نے چھ دہائیوں سے زائد عرصہ تھائی لینڈ کے طویل ترین دورِ حکومت رکھنے والے بادشاہ بھو می بول ادولیادیج کی ملکہ رہیں جن کا انتقال 2016 میں ہوا تھا۔

شاہی محل کے مطابق بادشاہ مہا وجیرا لونگکورن نے ہدایت دی ہے کہ ملکہ سرکِت کی آخری رسومات شاہی اہتمام سے ادا کی جائیں۔

ان کی میت بینکاک کے گرینڈ پیلس کے دُسِت تھرون ہال میں رکھی جائے گی جہاں عوام اور شاہی خاندان کے افراد تعزیت کے لیے آئیں گے۔

ملکہ سرکِت کی پیدائش 12 اگست 1932 کو ہوئی۔ ان کے والد اس وقت فرانس میں تھائی سفیر تھے۔

اسی دوران پیرس میں ان کی ملاقات نوجوان بادشاہ بھو می بول سے ہوئی، جن سے انہوں نے 28 اپریل 1950 کو شادی کی جنھیں صرف ایک ہفتہ قبل ہی بینکاک میں تخت پر بٹھایا گیا تھا۔

بطور نوجوان جوڑا، وہ 1960 کی دہائی میں دنیا بھر کے دوروں پر نکلے اور امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور، ملکہ الزبتھ دوم، اور ایلوس پریسلے جیسے عالمی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔

تھائی شاہی خاندان کے تمام ارکان ایک سالہ قومی سوگ منائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تھائی لینڈ ملکہ سرک ت

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے