تیل کمپنیوں کے حصص کی بلااجازت فروخت روکنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نےتیل کمپنیوں کے حصص کی بلااجازت فروخت روکنے کا حکم دے دیا۔
میڈیاذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈویژن تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کے شعبےمیں قومی سلامتی سے متعلق ضابطہ جاتی نظم و ضبط نافذ کرنے میں ناکام ہو رہا ہے کیونکہ ایک کمپنی کے غیرقانونی شیئرز کی فروخت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فرنٹیئر ہولڈنگز لمیٹڈ (ایف ایچ ایل) اور سپڈ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ایس ای پی ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تبدیلی اور ان کے شیئرز کسی غیر ملکی خریدار کو فروخت کرنے کے عمل پر پابندی لگا دی ہے، جبکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز (ڈی جی پی سی) فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کی جانچ پڑتال میں ناکام رہا ہے۔
عدالت نے دونوں کمپنیوں کی ملکیت یا انتظامی ڈھانچے کی منتقلی سے متعلق تمام اقدامات روکنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایس ای پی ایل نے اپنی ملکیت اور انتظامی کنٹرول تبدیل کیا، اور ایک نئے سرمایہ کار گروپ نے ایف ایچ ایل کے شیئرز اور کارپوریٹ کنٹرول سنبھال لیا، جس کے نتیجے میں ایس ای پی ایل کی ملکیت میں بالواسطہ تبدیلیاں آئیں، جو پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے منصوبے چلا رہی ہے۔
عدالت نے پٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن رولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایسی کمپنی کے شیئرز، مفاد یا کنٹرول کی منتقلی کے لیے ڈی جی پی سی کی پیشگی تحریری منظوری ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔