تھر میں بچوں کی ہلاکتوں کے واقعات کو اچھالا جاتا ہے، بلاول
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
کراچی:چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ میں بچوں کی شرح اموات پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت کم ہے، لیکن تھر میں بچوں کی ہلاکتوں کو زیادہ اچھالا جاتا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے سول اسپتال میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے بتایا کہ سندھ حکومت بچوں کی صحت کے حوالے سے اہم اور انقلابی اقدامات کر رہی ہے، جن کی عالمی سطح پر پذیرائی ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں بچوں کی اموات کی شرح 1.
بلاول کا کہنا تھا کہ ان کا خواب ہے کہ ہر ضلع میں چائلڈ لائف ایمرجنسی سہولت فراہم کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے معاملے میں وفاق کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور یہ اقدام بے نظیر بھٹو نے متعارف کرایا تھا۔ انہوں نے سول اسپتال کے کنٹرول روم کا دورہ بھی کیا اور کہا کہ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا نے کراچی اور لاڑکانہ کے سول اسپتال کے معیار کو تسلیم کیا اور سندھ میں بچوں کی اموات میں کمی کو بھی سراہا ہے۔
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل میں بچوں کی انہوں نے کہ سندھ
پڑھیں:
طلبہ کے مخصوص رنگ کے سوئٹر لازمی شرط ختم کی جائے، والدین ایکشن کمیٹی
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نوابشاہ(نمائندہ جسارت) والدین ایکشن کمیٹی نے سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی طرز پر محکمہ تعلیم سندھ سرکاری اسکولوں میں بچوں کے لیے مخصوص رنگ کے سوئٹر کی لازمی شرط ختم کر ے سندھ حکومت اور اس پر عملدرآمد کروا کر سندھ کی سہولت فراہم کرے تاکہ حسب استطاعت کے مطابق کسی بھی رنگ اور ڈیزائن کا سوئٹر اور دستانے پہن سکتے ہیں۔ اس فیصلے کو والدین، اساتذہ اور سماجی حلقوں کی جانب سے کے پی کے کی حکومت کو وسیع پذیرائی ملی ہے، کیونکہ معاشی حالات کے پیش نظر بڑی تعداد میں والدین مہنگے میچنگ یونیفارم خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ محکمہ تعلیم نے یہ اعتراف کیا کہ بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرنا ضروری ہے اور یونیفارم کی مہنگی پابندیاں والدین کے لیے مستقل مسئلہ بنی ہوئی تھیں۔خیبر پختونخوا کے فیصلے کے بعد سندھ کے مختلف شہروں، خصوصاً نوابشاہ میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ صوبائی حکومت بھی اسی نوعیت کا حکم جاری کرے۔ نجی اسکولوں کی ’’والدین ایکشن کمیٹی‘‘ نے کہا ہے کہ سردی کی شدت کے پیش نظر بچوں کو کسی بھی قسم کا گرم سوئٹر پہننے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مخصوص برانڈ یا رنگ کے مہنگے سوئٹر کی پابندی نے والدین کی مشکلات بڑھا دی ہیں، جبکہ عام بازار میں دستیاب گرم کپڑے نہ صرف سستے ہیں بلکہ ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی بھی ہیں۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ نجی اسکولوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ایسی ہدایات جاری نہ کریں جو والدین پر غیر ضروری معاشی دباؤ ڈالیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگے اور مخصوص سوئٹر لازمی قرار دینا طلبہ اور والدین کے بنیادی حقوق سے متصادم ہو سکتا ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرے، مگر اگر مالی دباؤ کے باعث بچے اسکول آنے سے قاصر ہوں، تو یہ عمل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ مزید یہ کہ صارفین کے حقوق سے متعلق قوانین اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی ادارہ والدین کو مخصوص دکانوں یا مہنگے برانڈز سے خریداری پر مجبور کرے، کیونکہ یہ غیر منصفانہ تجارتی عمل سمجھا جاتا ہے۔سماجی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ شدید سردی میں بچوں کو صرف رنگ یا یونیفارم کے نام پر مناسب گرم کپڑے پہننے سے روکنا ان کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ بچوں کی فلاح اور تحفظ ہمیشہ اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور اسکول انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ موسم کے حالات کے مطابق لچک دے۔ اسی لیے کراچی، حیدرآباد، سکھر، نوابشاہ اور اندرونِ سندھ کے والدین مشترکہ طور پر حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی طرز پر فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔والدین، معلمین اور نجی اسکولوں کی نمائندہ تنظیمیں سندھ حکومت سے اپیل کر رہی ہیں کہ وہ فوری طور پر ہدایات جاری کرے کہ تمام سرکاری و نجی اسکول بچوں کو اپنی استطاعت کے مطابق گرم کپڑے پہننے کی مکمل اجازت دیں اور مہنگے میچنگ سوئٹر کی پابندی ختم کی جائے۔ اس سے نہ صرف والدین کا معاشی بوجھ کم ہوگا بلکہ بچے سردی سے محفوظ رہتے ہوئے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔