صیہونی میڈیا کے مطابق غزہ میں جنگ بندی مذاکرات کے دوسرے مرحلے کو سبوتاژ کرنے سے متعلق غاصب اسرائیلی رژیم کو ارسال کردہ اپنے پیغامات میں قطری حکومت نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان اوچھے ہتھکنڈوں کے باعث جنگ بندی معاہدہ خطرے میں ہے! اسلام ٹائمز۔ غاصب صیہونی رژیم کے عبرانی زبان کے معروف اخبار ہآرٹز نے اعلان کیا ہے کہ قطر نے اسرائیلی رژیم کو متعدد پیغامات ارسال کئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے دوسرے مرحلے اور غزہ میں جنگ بندی سے متعلق غاصب صیہونی رژیم کے اقدامات نیز غاصب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اشتعال انگیز بیانات نے اس معاہدے کے اولین مرحلے کی تکمیل کو ہی خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ اسرائیلی اخبار نے نامعلوم صیہونی ذرائع سے نقل کرتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ قطریوں کی جانب سے اسرائیل کو بارہا غصے پر مبنی پیغامات ارسال کرتے ہوئے یاددہانی کروائی گئی ہے کہ حماس کے ساتھ معاہدہ، ان کے ساتھ بھی متعلق ہے کیونکہ وہ اس کے نفاذ کے ضامن ہیں!! قطریوں کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام کے غیر ذمہ دارانہ رویے سے صیہونی رژیم کے قیدیوں کی رہائی کے اولین مرحلے کو ہی خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔

صیہونی اخبار ہآرٹز کے مطابق، اس عدم اطمینان کی ایک علامت یہ ہے کہ حماس نے ان 3 قیدیوں کے ناموں کا اعلان کرنے میں کہ جنہیں اگلے روز رہا کیا جانا تھا، گزشتہ جمعے کے روز کئی ایک گھنٹے تک تاخیر کی تھی لہذا اگر دوسرے مرحلے کے لئے مذاکرات میں تیزی نہ لآئی گئی تو بعید نہیں کہ آئندہ جمعے کے روز بھی آزاد کئے جانے والے اسرائیلی قیدیوں کے ناموں کے اعلان میں تاخیر ہو اور حتی یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے عمل میں بھی تاخیر کی جائے کہ جس کا مطلب یہ ہو گا کہ پہلا مرحلہ مکمل نہیں ہو سکے گا! اسرائیلی اخبار نے لکھا کہ سفارتی بیانات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے مد نظر مذکورہ بالا احتمالات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ صیہونی اخبار نے لکھا کہ قطری حکام کے غصے کی ایک علامت وہ بیان بھی ہے کہ جسے اسرائیلی میڈیا کی جانب "انتہائی نادر" قرار دیا گیا تھا اور جو قطری وزارت خارجہ کی جانب سے گذشتہ روز جاری ہوا ہے۔ اسرائیلی اخبار نے مزید لکھا کہ قطری حکام نے گذشتے ہفتے، ثالث ہونے کے حوالے سے خاموشی کو ترجیح تھی تاہم اسرائیلی چینل 14 کو دیئے گئے نیتن یاہو کے انٹرویو نے انہیں شدید غصے میں مبتلا کر دیا ہے!

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قیدیوں کے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم