مراکش میں چیئرمین سینیٹ کے اعزاز میں ظہرانہ، گلوبل ساؤتھ کے کردار پر زور
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
مراکش میں چیئرمین سینیٹ کے اعزاز میں ظہرانہ، گلوبل ساؤتھ کے کردار پر زور WhatsAppFacebookTwitter 0 29 April, 2025 سب نیوز
رباط : مراکش کی پارلیمنٹ نے چیئرمین سینیٹ آف پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے اعزاز میں ایک پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے اور پارلیمانی سطح پر تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
پاکستانی وفد میں سینیٹر دوست علی جیسر (پاکستان پیپلز پارٹی)، سینیٹر سعدیہ عباسی (مسلم لیگ ن) اور سینیٹر خالدہ عطیب (متحدہ قومی موومنٹ) شامل تھے۔ ظہرانے کے دوران مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر بامعنی تبادلہ خیال کیا اور عالمی و علاقائی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا۔
تیسرے ساؤتھ پارلیمانی ڈائیلاگ فورم سے خطاب
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے مراکش میں منعقدہ تیسرے ساؤتھ پارلیمانی ڈائیلاگ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل ساؤتھ اپنے وسیع قدرتی وسائل اور انسانی سرمائے کے باعث عالمی ترقیاتی ایجنڈے کی تشکیل نو میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک محلِ وقوع اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور چین کو ملانے والے خطے میں ایک منفرد حیثیت دیتا ہے، جو علاقائی روابط کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ترقی، موسمیاتی چیلنجز اور سماجی تحفظ
یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقتصادی ترقی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، جامع ترقی کو فروغ دینے اور کلائمیٹ فائنانس تک منصفانہ رسائی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
انہوں نے “بینظیر انکم سپورٹ پروگرام” کا حوالہ دیتے ہوئے اسے پاکستان کا کامیاب سماجی تحفظ ماڈل قرار دیا، جو غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
علاقائی یکجہتی اور پارلیمانی تعاون پر زور
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ غربت، خوراک کے تحفظ، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی یکجہتی، ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساؤتھ تعاون کو مضبوط بنانا عالمی نظام کی نفی نہیں بلکہ اس کی بہتری کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے بین الپارلیمانی نیٹ ورکس کی مضبوطی، جامع قانون سازی اور ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے کے لیے باہمی تعاون اور تبادلہ پروگراموں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
اختتام پر انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں سے گلوبل ساؤتھ دنیا کو ایک زیادہ منصفانہ، مساوات پر مبنی اور پائیدار راستے پر گامزن کر سکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکینیڈا کے انتخابات میں 2 پاکستانی نژاد خواتین رکن پارلیمان منتخب کینیڈا کے انتخابات میں 2 پاکستانی نژاد خواتین رکن پارلیمان منتخب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحت کی پیشکش رینٹل پاور ریفرنسز؛ سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کو نیب سے بڑا ریلیف مل گیا بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار، اپنے ہی فوجیوں پر فائرنگ کر دی، 5 سکھ اہلکار ہلاک محسن نقوی کی فضل الرحمان سے ملاقات، بھارتی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے پر اتفاق آئی ایس آئی، آئی بی نے ارشد چائے والا کے افغان شہری ہونے کی رپورٹ پیش کردیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔