پریشان کن خبر ، گندم کے بڑے بحران کا خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
پاکستان میں رواں سال کے آخر پر گندم کے بڑے بحران کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، اعلی حکام نے بتایا ہے کہ ملک میں خوراک کی کمی کو پورا کرنے کیلئے حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کو 4 سے 5 ملین میٹرک ٹن گندم درآمد کرنا پڑے گی جس پرکم از کم تین ارب ڈالرز خرچ کرنا پڑینگے۔
رواں سال28 ملین میٹرک ٹن گندم پیدا کرنے والے کسان کو ایک من گندم پر 1500 روپے کا نقصان ہورہا ہے، لیکن گرائونڈ پر کاشتکاروں نے ہم انویسٹی گیٹس ٹیم کو بتایا ہے کہ گندم کے بحران سے نمٹنے کیلئے کسانوں کی بات سننے والا کوئی نہیں اور نہ ہی منافع خوروں اور غلط پالیسی بنانے والوں سے کوئی پوچھنے والا ہے۔
ایسے لگتا ہے کہ ایک بار پھر گندم اسمگل ہوگی یا پھر ذخیرہ اندوز پیسہ کمائیں گے؟ لوگ قطاروں میں لگ کر آٹا خریدنے پر مجبور ہوں گے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔