جنگ بندی پر مذاکرات کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 84 افراد شہید
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
قطر میں جاری بالواسطہ جنگ بندی کے مذاکرات کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 84 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کی صبح سے جبالیہ پناہ گزین کیمپ سمیت شمالی غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 50 افراد شہید کیے گئے، غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 افراد جبالیہ اور 10 دیگر جنوبی شہر خان یونس میں شہید ہوئے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے ان خبروں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حماس نے امریکی نژاد اسرائیلی اسیر رہا کردیا، مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی توقع
جبالیہ میں، امدادی کارکنوں نے ہینڈ ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے کنکریٹ کے گرے ہوئے سلیبوں کو توڑا، جو صرف سیل فون کیمروں کی روشنی سے روشن تھے، تاکہ ہلاک ہونے والے کچھ بچوں کی لاشیں نکال سکیں۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیل ایک ’منظم اور تیز فوجی فضائی مہم‘ جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں بنیادی طور پر رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ خاندانوں کو ان علاقوں کو چھوڑنے اور عارضی خیموں میں رہنے پر مجبور کیا جا سکے، جو اسرائیل کو شمالی غزہ سے بے گھر کرنے کے کسی بھی منصوبے کو آسان بنائے گا۔
’یہ ایک بہت ہی ڈرامائی حقیقت ہے اور یہ اس انسانی نقصان کی شدت کو واضح کرتا ہے جو شمالی غزہ میں بچوں اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کو گزشتہ ہفتے کے دوران برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔‘
مزید پڑھیں: معاہدے کے باوجود اسرائیل کی بمباری جاری، غزہ میں 183 بچوں سمیت مزید 436 افراد شہید
اسرائیل کی بمباری میں ایک مختصر وقفے کے دوران اسرائیلی نژاد امریکی اسیر ایڈن الیگزینڈر کی رہائی کے ایک دن بعد، یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایک اسرائیلی وفد قطری دارالحکومت دوحہ میں موجود تھا، جہاں قطر، مصر اور امریکا کے ذریعے سہ فریقی ثالثی کے ذریعے حماس کے ساتھ بالواسطہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
بدھ کے روز، صدر ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی، اسٹیو وِٹکوف کا کہنا تھا کہ جنگ بندی اور محصور علاقے میں داخل ہونے والی امداد کی بحالی سمیت دونوں لحاظ سے جنگ بندی کے مذاکرات میں ’تمام محاذوں پر‘ بڑی پیش رفت ہو رہی ہے۔
اسٹیو وٹکوف نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ انہیں جلد ہی کسی مثبت اعلان کی امید ہے، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کے روز اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ اگر جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جائے تو بھی اسرائیل غزہ میں اپنی فوجی مہم ختم نہیں کرے گا۔
مزید پڑھیں:
غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 52,908 افراد شہید ہو چکے ہیں، اسرائیلی حملوں نے غزہ کا زیادہ تر شہری منظر نامہ تباہ کرتے ہوئے 90 فیصد سے زائد آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے زیرقیادت حملے کے جواب میں اپنی فوجی مہم کا آغاز کیا، جس میں کم از کم 1,139 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اسرائیلی حملوں میں اسرائیلی حملے جنگ بندی دوحہ غزہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی حملوں میں اسرائیلی حملے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں افراد شہید کے مطابق
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔