پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی آن لائن موجودگی اور شفافیت سے متعلق فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی تازہ رپورٹ نے تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔

فافن کی رپورٹ کے مطابق ملک کی 166 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں سے صرف 58 کی ویب سائٹس جزوی یا مکمل طور پر فعال ہیں، جو مجموعی تعداد کا محض 35 فیصد بنتا ہے۔

فافن کے مطابق سیاسی جماعتوں کی اکثریت آئینی تقاضوں کے باوجود اپنی ویب سائٹس پر بنیادی معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ صرف 40 جماعتوں نے اپنے مرکزی عہدیداران کی فہرستیں شائع کیں جب کہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی تفصیلات صرف 6 جماعتوں نے مہیا کی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سیاسی جماعتوں کی معلوماتی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں بن سکتے۔ رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کی ویب سائٹ معلومات کی دستیابی کے اعتبار سے سب سے آگے ہے، جہاں 30 میں سے 18 اقسام کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

اس کے برعکس، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز (پی پی پی پی) کی ویب سائٹ نے 12 پوائنٹس، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 11، عوامی نیشنل پارٹی نے 9، جبکہ حق دو تحریک بلوچستان (ایچ ڈی ٹی) اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) نے 8، سنی اتحاد کونسل اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے ایم اے پی) نے 7، تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان (جے یو آئی پی) نے 6، مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے 5، بلوچستان عوامی پارٹی نے 4 اور پاکستان مسلم لیگ قائد (پی ایم ایل-ق) نے صرف 1 پوائنٹ حاصل کیا۔

پارلیمانی نمائندگی سے محروم جماعتوں میں پاکستان تحریک شادباد (پی ٹی ایس) نے 13 پوائنٹس کے ساتھ سبقت حاصل کی۔ فافن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ویب سائٹ صرف وی پی این (وی پی این) کے ذریعے ہی قابلِ رسائی ہے، جو عام صارفین کی رسائی کو محدود کرتی ہے۔

الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 208(4) کے تحت سیاسی جماعتوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے مرکزی عہدے داروں اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کی تازہ ترین فہرستیں ویب سائٹس پر شائع کریں۔ تاہم فعال ویب سائٹس رکھنے والی جماعتوں میں بھی صرف 69 فیصد جماعتیں اس قانونی تقاضے پر عمل کر رہی ہیں۔

رپورٹ میں مالی شفافیت کے فقدان کو سب سے کم رپورٹ ہونے والا پہلو قرار دیا گیا ہے۔ حیران کن طور پر، صرف ایک جماعت نے اپنے مالی گوشوارے ویب سائٹ پر شائع کیے ہیں، جبکہ کسی بھی جماعت کی ویب سائٹ پر امیدواروں کے انتخاب کا طریقہ یا جنرل کونسل کی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

فافن نے زور دیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو شفافیت، دسترس اور آئینی تقاضوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ویب سائٹس کو باقاعدگی سے اپڈیٹ کرنا چاہیے، تاکہ جمہوری عمل میں عوامی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیاسی جماعتوں کی ویب سائٹ ویب سائٹس کے مطابق

پڑھیں:

کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔

انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔

گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گورنر سندھ نہال ہاشمی

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس