غزہ میں قتلِ عام: اسرائیلی حملوں میں 300 سے زائد اقوام متحدہ اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
غزہ : اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (UNRWA) کے سربراہ فلپ لازارینی نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں UNRWA کے 300 سے زائد ملازمین شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اس المناک حد کو “خونریز سنگ میل” قرار دیا ہے۔
فلپ لازارینی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ “ان میں سے زیادہ تر اہلکار اسرائیلی فوج کے حملوں میں اپنے بچوں اور خاندانوں کے ساتھ شہید ہوئے اور ان کی پوری کی پوری فیملیاں مٹا دی گئیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کئی ملازمین اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران مارے گئے، جن میں طبی عملہ اور اساتذہ شامل تھے جو اپنی کمیونٹیز کی خدمت کر رہے تھے۔
لازارینی نے ان ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: “ان ہلاکتوں کا کوئی جواز نہیں۔ اگر ان جرائم پر خاموشی اختیار کی گئی تو مزید بے گناہوں کی جانیں جائیں گی۔ جو ذمہ دار ہیں، انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔”
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔