وزیر دفاع خواجہ آصف : فوٹو فائل

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی تحریک عدم اعتماد لارہی ہے تو ضرور لائے، سو بسم اللّٰہ، میرا پی ٹی آئی کو مشورہ ہے کہ عدم اعتماد نہ لائے، جو رہا سہا بھرم ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں جیونیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اپوزیشن حکومت یا اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا چاہتی ہے تو لے آئے، یہ تحریک عدم اعتماد لے کر آئیں ان کی اوقات سامنے آجائے گی، اس وقت ان کی سیاست کا جو تھوڑا بہت سیاسی بھرم ہے وہ بھی سامنے آجائے گا، اس حرکت سے ان کے کپڑے اتر جائیں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ تین ساڑھے تین سال اسد قیصر بھی اس اسمبلی کے اسپیکر رہے ہیں، ان تین ساڑھے تین سال میں جو اسمبلی کے ساتھ ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے، اگر موجودہ اسپیکر کے خلاف تحریک لائی جا سکتی ہے تو اسد قیصر کے خلاف 100 بار لانی چاہیے تھی جب وہ اسپیکر تھے۔

آج بھارت کیساتھ صرف اسرائیل اور افغان طالبان کھڑے ہیں: وزیرِ دفاع خواجہ آصف

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آج بھارت کے ساتھ صرف اسرائیل اور افغان طالبان کھڑے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اُس وقت اسد قیصر بانی پی ٹی آئی کے ذاتی ملازم بنے پھرتے تھے، کیا وجہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو کوئی ریلیف دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک ہائبرڈ ماڈل اللّٰہ پاک کے فضل و کرم سے سرخرو ہوا ہے، سیاسی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں اس وقت آئیڈیل کوآپریشن ہے، یہ سلسلہ پچھلے دو ڈھائی سال سے چل رہا ہے، اس باہمی تعاون سے ہم اپنی خراب معیشیت پر اچھے انداز میں قابو پا رہے ہیں، ساری دنیا اس وقت تعریف کر رہی ہے کہ پاکستان معاشی ریکوری کر رہا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ 14 اگست 1947 کے بعد یہ سب سے مبارک دن تھے جس دن ہم نے بھارت پر فتح حاصل کی، اللّٰہ پاک نے ہم سب پر مہربانی کی اور ہماری فوج کو فاتح کیا، آپریشن بنیان مرصوص میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح افواج کے ساتھ کھڑی تھی، چار دنوں میں ہماری فوج نے جو کامیابیاں حاصل کیں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کہہ رہا ہے اسرائیل اور افغانستان نے ہماری حمایت کی ہے باقی سفارتی طور پر ہم دیوالیہ تھے، ہم نے افغانستان کیلئے دو جنگیں لڑیں جو تاریخ کی فاش غلطیاں تھیں، ہمارا کوئی لینا دینا نہیں تھا، ہم نے افغانستان کے مامے بن کر اپنا ملک تباہ کیا، ہمارے ہمسائے کی نسبت تعلقات کو اچھا رہنا چاہیے، جب ان کی سرزمین ہمارے دشمنوں کی آماجگاہ بن جائے تو پھر ہم کیسے ان کو اپنا دوست یا بھائی کہہ سکتے ہیں، آپ کے گھر میں دشمن رہ کر میرے گھر پر فائرنگ کر رہے ہوں تو کیا آپ میرے دوست رہیں گے، پاکستان کے ساتھ افغانستان کے تعلق پر کوئی رشک کرنے والی بات نہیں ہے بلکہ افسوس کی بات ضرور ہے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جنگی سلسلہ شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس شیل ہی نہیں، ہم نے یوکرین کو دے دیے، اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس جہازوں کا تیل ہی نہیں، ہم جہاز اڑا ہی نہیں سکتے، جنگ بھی ہوئی ہے، جہاز بھی اڑے ہیں اور الحمداللّٰہ ہم نے ان کے 6 جہازوں کو گرایا بھی ہے، اپوزیشن لیڈر یہ بتائیں کہ وہ جو پیٹرول آیا ہے وہ کیا آپ نے دیا ہے، دوسرا وہ کہتے تھے شیل نہیں، تو یہ جو ہم نے مارے ہیں تو کیا یہ آتش بازی کر رہے تھے، یہ لوگ اپنے ملک کے متعلق یہ کہتے ہیں، اپنی عقل کو ہاتھ ماریں، یہ نارمل نہیں ابنارمل ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ہم ایکسپورٹر ہیں بلکہ بہت بڑے ایمونیشن کے ایکسپورٹر ہیں، دنیا میں کسی کے پاس امونیشن اتنا اسپیئر نہیں جتنا ہمارے پاس ہے، یہ ملک دشمنی میں اپنی سیاست کے پیچھے اتنے دور چلے جاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وزیر دفاع نے کہا کہ خواجہ آصف نے کہا دفاع خواجہ آصف پی ٹی آئی کے ساتھ

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم