واشنگٹن(نیوز ڈیسک)ہارورڈ یونیورسٹی کی خطیر امداد منجمد کرنے کے بعد ایک اور تعزیری فیصلہ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے غیر ملکی طلبا کے داخلے کا اختیار ختم کر دیا ہے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ ایکسچینج وزیٹر پروگرام کی سند کو منسوخ کر دیا گیا ہے، اس پروگرام کی نگرانی یو ایس ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشن یونٹ کرتی ہے، جس کی سربراہی کرسٹی نوئم کرتی ہیں۔

This administration is holding Harvard accountable for fostering violence, antisemitism, and coordinating with the Chinese Communist Party on its campus.

It is a privilege, not a right, for universities to enroll foreign students and benefit from their higher tuition payments… pic.twitter.com/12hJWd1J86

— Secretary Kristi Noem (@Sec_Noem) May 22, 2025


خط کے مطابق اس اقدام کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف ہارورڈ یونیورسٹی اپنے کیمپس میں غیر ملکی طلبا کو قبول نہیں کرسکےگی بلکہ موجودہ طلبا کو اپنی غیرتارکین وطن کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے کسی دوسری یونیورسٹی میں منتقلی کی ضرورت ہوگی۔

جمعرات کو ایکس پر ایک پوسٹ میں، ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوئم نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ہارورڈ یونیورسٹی کو اپنے کیمپس میں تشدد، یہود مخالفت کو فروغ دینے اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے جوابدہ ٹھہرا رہی ہے۔

’یونیورسٹیوں کے لیے یہ ایک اعزاز ہے کہ وہ غیر ملکی طالب علموں کا اندراج کریں اور ان کی اعلیٰ ٹیوشن ادائیگیوں سے مستفید ہوں تاکہ ان کے اربوں ڈالر کے اینڈومنٹ فنڈز میں مدد کی جا سکے، ہارورڈ کے پاس صحیح کام کرنے کے کافی مواقع تھے لیکن اس نے انکار کیا۔‘

یہ فیصلہ ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبا کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کرسکتا ہے، یونیورسٹی کے مطابق اس کی بین الاقوامی تعلیمی برادری میں 9,970 افراد شامل ہیں، جب کہ تعلیمی سال 25-2024 کے اعداد و شمار کے مطابق 6,793 بین الاقوامی طلبا یونیورسٹی میں طالبعلموں کے مجموعی اندراج کا 27.2 فیصد حصہ شمار کیے جاسکتے ہیں۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوئم نے محکمہ کو ہدایت دی ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کی ’اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام‘ کی سرٹیفکیشن ختم کر دی جائے، یہ اقدام ان کی جانب سے گزشتہ ماہ دی گئی اس دھمکی پرعملدرآمد ہے، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہارورڈ 30 اپریل تک بین الاقوامی طلبا کی ’غیر قانونی اور پرتشدد سرگرمیوں‘ کی مکمل تفصیلات فراہم کرے، بصورت دیگر اس کی سرٹیفکیشن منسوخ کردی جائے گی۔
مزید پڑھیں:عید قربان کی آمد: ’اگر مویشی منڈی میں مرغی لے آئیں تو وہ بھی ایک لاکھ کی ہوجائے‘

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ہارورڈ یونیورسٹی یونیورسٹی کے غیر ملکی ہوم لینڈ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا