ہری پور: پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: ہری پور کی تحصیل غازی کے دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے متعدد اہم سڑکیں بند ہونے کے باعث درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ غازی سے مکمل طور پر منقطع ہوگیا۔
لینڈ سلائیڈنگ سے بیٹ گلی روڈ، دیوی روڈ، پلیاں روڈ، کنیرڑی روڈ اور مکر روڈ مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں، متاثرہ علاقوں میں گزشتہ 36 گھنٹوں سے زائد وقت گزرنے کے باوجود راستے تاحال نہیں کھولے جا سکے جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
افسوس ناک خبر، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما عبدالستار بچانی انتقال کرگئے
سڑکوں کی بندش کے سبب نہ صرف روزمرہ کی آمد و رفت معطل ہو گئی ہے بلکہ ضروری اشیائے خورونوش اور طبی سہولیات کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے، دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی علاقے ہونے کے باعث تاحال امدادی ٹیمیں موقع پر نہیں پہنچ سکیں۔
مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے اور سڑکیں کھولنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاہم بھاری مشینری کی عدم دستیابی ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے، عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور حکومت سے فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے اور سڑکوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شاہدرہ ٹاؤن میں افسوسناک واقعہ؛ کم عمر ڈرائیور نے موٹرسائیکل سواروں کو روند ڈالا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز