وزیراعلیٰ بلوچستان کو ہار پہنانے پر جے یو آئی ف کے زابد ریکی کی پارٹی رکنیت معطل
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
کولاج بشکریہ سوشل میڈیا
جمعیت علماء اسلام ف بلوچستان نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو ہار پہنانے پر زابد ریکی کی پارٹی رکنیت معطل کر دی ہے۔
جے یو آئی ف بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نےکوئٹہ میں اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری، اراکین اسمبلی کے ہمراہ نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر زابد ریکی کی رکنیت معطل کردی ہے، زابد ریکی نے پارٹی کے فیصلے کو قبول کر لیا ہے، زابد ریکی کی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کے لیے پارٹی کی مرکزی شوریٰ کو لکھ دیا ہے۔
سینیٹر مولانا عبدالوسع کا کہنا تھا کہ جے یو آئی ف پر بلوچستان اسمبلی میں فرنڈلی اپوزیشن کا الزام غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف بلوچستان نے مائنز اینڈ منرل ایکٹ کی منظوری کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مولانا عبدالواسع کا کہنا ہے کہ بلوچستان اسمبلی سے بہت چالاکی سے مائنز اینڈ منرل ایکٹ منظور کیا گیا، بل کے سلسلے میں سب اراکین کو اندھیرے میں رکھا گیا۔
مولانا عبدالواسع نے مزید کہا کہ جے یو آئی ف نے اپنے اراکین اسمبلی کو شوکاز نوٹسز دیے ہیں، ان کا جواب یہی تھا کہ جو بل ہمیں دیا گیا وہ اور تھا مگر جو بل منظور کیا گیا ہے وہ دوسرا تھا۔
انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں منظور ہونے والا مائنز اینڈ منرل بل واپس لیا جائے۔ وفاق حکومت فوری طور پر نئے این ایف سی ایوارڈ کا اجراء کرے، اگر وفاقی حکومت نے صوبے کے این ایف سی ایوارڈ کو ختم کرنے کی کوشش کی تو جے یو آئی احتجاج کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: زابد ریکی کی جے یو ا ئی ف
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔