اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم، ایک لاکھ 26 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
مارکیٹ کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا اور ابتدا ہی میں 1233 پوائنٹس کے اضافے سے انڈیکس ایک لاکھ 25 ہزار 585 پوائنٹس کی سطح کو چھو گیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے نئی تاریخ رقم کر دی۔ وفاقی بجٹ کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مثبت توقعات کے باعث مارکیٹ زبردست تیزی کے ساتھ ایک لاکھ 26 ہزار پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ بدھ کے روز کاروبار کا اختتام 100 انڈیکس میں 2328 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 24 ہزار 352 پوائنٹس پر ہوا تھا، جو مارکیٹ کی اب تک کی بلند ترین سطح تھی، تاہم جمعرات کے روز بھی مارکیٹ کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا اور ابتدا ہی میں 1233 پوائنٹس کے اضافے سے انڈیکس ایک لاکھ 25 ہزار 585 پوائنٹس کی سطح کو چھو گیا۔ بعد ازاں تیزی کا رجحان مستحکم رہا اور 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 1675 پوائنٹس کا زبردست اضافہ دیکھا گیا، جس کے ساتھ ہی مارکیٹ نے ایک لاکھ 26 ہزار 028 پوائنٹس کی نئی تاریخی بلندی عبور کرلی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پوائنٹس کی ایک لاکھ کے ساتھ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔