موٹر سائیکل مالکان کیلئے اہم خبر آگئی؛ بڑا فیصلہ ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں ٹریفک پولیس نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے ایک بار پھر نئی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
اس نئی کارروائی کے تحت موٹر سائیکل سواروں کے لیے سندھی اجرک کے ڈیزائن والی اور بڑے سائز کی نمبر پلیٹس کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانے کیے جا رہے ہیں۔
شہریوں نے اس مہم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر چند ماہ بعد نئی نمبر پلیٹ لگوانے کا حکم جاری کر دیا جاتا ہے، جو عوام کے لیے نہ صرف مہنگا ہے بلکہ غیر ضروری مالی دباؤ بھی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل اب ایک آمدنی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سرکاری نمبر پلیٹ 1850 روپے میں فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ مارکیٹ میں اسی قسم کی پلیٹ تقریباً 600 روپے میں دستیاب ہے۔
عوام نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نمبر پلیٹس کے معاملے پر کوئی واضح، یکساں اور مستقل پالیسی بنائی جائے، تاکہ بار بار کی مہمات اور چالانوں سے عوام کو نجات مل سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔