دانش اسکولوں سمیت 19.253 ارب روپے کے 6 تعلیمی منصوبوں کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اسلام آباد:
سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی)کے اجلاس میں ملک کے دور دراز علاقوں میں دانش اسکولوں سمیت 19.253 ارب روپے کے 6 تعلیمی منصوبوں کی منظوری دے دی۔
سرکاری خبرایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال کی زیر صدارت سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے پیش کیے گئے تعلیم کے شعبے کے 6 منصوبے منظور کیے گئے، جن کی مجموعی لاگت 19.
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ تمام منصوبے سی ڈی ڈبلیو پی سطح پر کلیئر کیے گئے ہیں، منظور شدہ منصوبوں میں ضلع کان مہترزئی، قلعہ سیف اللہ بلوچستان میں دانش اسکول کے قیام کا منصوبہ 2,929.856 ملین روپے، ضلع سبی بلوچستان میں دانش اسکول کے قیام کا منصوبہ 3,351.987 ملین روپے کا ہے۔
اسی طرح آزاد جموں و کشمیر میں دانش اسکول کے قیام کا منصوبہ 3,042.778 ملین روپے، بائیکر ضلع ڈیرہ بگٹی بلوچستان میں دانش اسکول کے قیام کا منصوبہ 2,665.733 ملین روپے، ضلع موسیٰ خیل بلوچستان میں دانش اسکول کے قیام کا منصوبہ 3,630.771 ملین روپے، ضلع ژوب بلوچستان میں دانش اسکول کے قیام کا منصوبہ 3,632.405 ملین روپے ہیں۔
تمام منصوبے وفاقی اور متعلقہ صوبائی حکومتوں کے درمیان یکساں شراکت داری کی بنیاد پر ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ادارے گریڈ 6 سے 12 تک کے طلبا و طالبات کو تعلیم فراہم کریں گے اور انہیں جدید ٹیکنالوجی، اختراع، کاروباری سوچ اور ڈیجیٹل خواندگی سے آراستہ کریں گے۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں جو ایک سنگین قومی مسئلہ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ خواندگی کی شرح کو 90 فیصد تک پہنچانا ناگزیر ہے تاکہ ملک ترقی کر سکے۔
احسن اقبال نے وفاقی حکومت کی تعلیم میں سرمایہ کاری اور صوبوں کو معیاری ادارے قائم کرنے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور حکومت بلوچستان کو زمین کی فراہمی اور 50 فیصد لاگت برداشت کرنے پر سراہا اور کہا کہ یہ اقدام دیگر صوبوں کے لیے قابل تقلید مثال ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق یہ اقدام پسماندہ علاقوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اداروں میں “ڈے اسکالرز” کو بھی داخلہ دیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ ان سے مستفید ہو سکیں اور سماجی انصاف کو فروغ دیا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ روایتی رٹہ نظام سے جدید تدریسی طریقوں کی طرف منتقلی کے ذریعے پاکستان اپنی نوجوان نسل کو باصلاحیت بنا سکتا ہے جو قومی معیشت کو ترقی دینے کے لیے درکار ہنر مند افرادی قوت فراہم کرے گی۔
احسن اقبال نے کہا کہ دانش اسکولوں کا یہ منصوبہ خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کے لیے ایک جامع اور مستقبل بین تعلیمی نظام کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں دانش اسکول کے قیام کا منصوبہ 3 احسن اقبال وفاقی وزیر ملین روپے نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔