جرمنی کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یہ طیارہ، بحیرہ احمر میں بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت کے لئے جاری یورپی یونین کے ایسپائڈز مشن کا حصہ ہے اور چین کی طرف لیزر سے نشانہ بنایا گیا طیارہ اکتوبر سے علاقے کی جاسوسی کے لیے ملٹی سینسر پلیٹ فارم کے طور پر یا "فلائنگ آئی"کے عنوان سے مامور ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جرمنی نے منگل کو چینی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا ہے کہ چین نے بحیرہ احمر میں یورپی یونین کے آپریشن میں شریک جرمن طیارے کو لیزر سے نشانہ بنایا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت یورپی یونین میں یورپ میں جدید ٹیکنالوجیز اور سیکیورٹی کے بنیادی ڈھانچے پر چینی اثر و رسوخ کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔ جرمن وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ جرمن اہلکاروں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنا اور آپریشن میں خلل ڈالنا مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے فوری طور پر کوئی جواب نہیں آیا اور برلن میں چینی سفارت خانے نے فوری طور پر اس پر تبصرہ نہیں کیا۔

جرمنی کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یہ طیارہ، بحیرہ احمر میں بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت کے لئے جاری یورپی یونین کے ایسپائڈز مشن کا حصہ ہے اور چین کی طرف لیزر سے نشانہ بنایا گیا طیارہ اکتوبر سے علاقے کی جاسوسی کے لیے ملٹی سینسر پلیٹ فارم کے طور پر یا "فلائنگ آئی"کے عنوان سے مامور ہے۔ وزارت کے ترجمان نے بتایا کہ جولائی کے آغاز میں ایک چینی جنگی جہاز نے معمول کے مشن کی پرواز کے دوران بغیر کسی وجہ یا پیشگی رابطے کے طیارے کو نشانہ بنایا، پرواز کو احتیاط کے طور پر روک دیا گیا اور طیارہ جبوتی کے ایک اڈے پر بحفاظت اتر گیا، ایم ایس پی ایک سویلین کمرشل سروس فراہم کرنے والے کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور جرمن مسلح افواج کے اہلکار اس میں شامل ہیں۔

وزارت کے مطابق اس جہاز کے ذریعے جمع کیا گیا ڈیٹا شراکت داروں کے لیے آگاہی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چین اس سے قبل امریکی طیاروں پر لیزر فائر کرنے کے الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔ یورپی نیٹو کے رکن ملک اور چین کے درمیان پیش آنیوالے واقعات زیادہ غیر معمولی ہیں۔ 2020 میں، یو ایس پیسفک فلیٹ نے کہا تھا کہ ایک چینی جنگی جہاز نے گوام کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں کے اوپر فضائی حدود میں پرواز کرنے والے امریکی بحری گشتی طیارے پر لیزر فائر کیا تھا، چین نے ردعمل میں کہاتھا کہ یہ حقائق کے مطابق نہیں ہے۔ یاد رہے جرمن طیارہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر انصاراللہ کے حملوں کے خلاف یورپی یونین کے فوجی آپریشن میں شامل تھا، جسے آپریشن ایسپائڈز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یورپی یونین کے نشانہ بنایا

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ