فضائی سفر کے دوران مسافروں کے ذہن میں کئی خدشات ابھرتے ہیں لیکن طیارے سے پرندوں کے ٹکرا جانے کا خطرہ اکثر نظرانداز رہتا ہے، تاہم یہ پرندے جب رن وے کے قریب بڑی تعداد میں موجود ہوں تو سنگین حادثات کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن ذرائع نے کہا کہ 2018 سے 2022 کے دوران علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور پر 198 جبکہ ملک بھر میں 622 واقعات پرندوں کے طیاروں سے ٹکرانے کے رپورٹ ہوئے۔

صرف 2022 میں پی آئی اے کی 57 پروازیں اس مسئلے سے متاثر ہوئیں جن میں سب سے زیادہ لاہور سے رپورٹ ہوئیں جہاں پانچ جہازوں کو نقصان پہنچا۔ 2024 کے پہلے چھ ماہ میں پی آئی اے کے 38 طیارے پرندوں سے ٹکرائے جن میں 14 واقعات لاہور میں پیش آئے جبکہ 2024 اور 2025 کے دوران مزید 28 واقعات رپورٹ ہوئے۔

عالمی سطح پر پرندوں کے حملوں سے بچاؤ کے لیے جامع ایس او پیز پر عمل کیا جاتا ہے۔ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے اینکس 14 کے تحت تمام ممالک پر لازم ہے کہ وہ پرندوں کے ٹکراؤ کے واقعات رپورٹ کریں اور انہیں برڈ اسٹرائیک انفارمیشن سسٹم میں شامل کریں۔

ایئرپورٹ کے اطراف ایسے تمام عوامل کا خاتمہ ضروری ہے جو پرندوں کو راغب کرتے ہیں جیسے کچرا، فصلوں کی باقیات اور پانی کے ذخائر۔ پاکستان میں بدقسمتی سے اس پر کم ہی عملدرآمد ہوتا ہے۔

سابق ڈائریکٹر سول ایوی ایشن لاہور ذکاوت حسن کے مطابق دوہزار ایکڑ پرمشتمل لاہور ایئرپورٹ کے اردگرد سب سے زیادہ سبزہ موجود ہے، جہاں بلند درختوں پر پرندے گھونسلے بناتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صفائی ستھرائی ایئرپورٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ ضروری ہے کیونکہ چوہے، خرگوش، کیڑے مکوڑے اور کھڑا پانی پرندوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ ایئرپورٹ کے 13 کلومیٹر کے دائرے میں پرندوں کی موجودگی ختم کرنا ناگزیر ہے لیکن قریبی بلند عمارتیں، گوشت فروش اور کچرا پھینکنے کی جگہیں پرندوں کو متوجہ کرتی ہیں۔ ماضی میں برڈ زونز بنائے گئے لیکن ان پر مکمل عملدرآمد نہ ہوسکا۔

بڑھتے ہوئے حادثات کے پیش نظر ایئرپورٹ کے اردگرد 8 کلومیٹر رقبے کو "نو برڈ زون" قرار دے کر اڑان اور لینڈنگ راستوں کی نگرانی کے لیے رِنگ فینسنگ کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل حل صرف ماحولیاتی اور پرندوں کے خطرے کے انتظامات سے ممکن ہے، جس میں گوشت، کچرا اور کھلے پانی جیسے تمام عوامل کا خاتمہ شامل ہے۔ ساتھ ہی جدید ٹیکنالوجی جیسے الٹراساؤنڈ ڈیوائسز، ساؤنڈ ڈیوائسز، لیزرز اور ایوین ریڈارز استعمال کیے جانا ضروری ہیں۔

دنیا کے بڑے ایئرپورٹس پر پرندوں کو دور رکھنے کے لیے شور پیدا کرنے والے آلات، پٹاخے، لیزرز، تربیت یافتہ کتے اور ریڈار استعمال ہوتے ہیں۔ بعض اوقات محدود پیمانے پر پرندوں کو مارنے کے اقدامات بھی کیے جاتے ہیں جبکہ پائلٹس کو پرواز اور لینڈنگ جیسے حساس مراحل پر خصوصی ہدایات دی جاتی ہیں۔

ای پی اے لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر علی اعجاز کے مطابق نو برڈ زون میں فضائی نگرانی اور ڈیجیٹل میپنگ کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ اب تک پرندوں کا کاروبار کرنے والے 293 افراد کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، 72 کبوتروں کے جال اور پنجروں کو ختم کیا گیا ہے جبکہ 106 پولٹری کی دکانیں اور 76 کچرا پھینکنے کی جگہیں بند کی گئی ہیں۔

ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجرز لاہور عدنان علی ورک کے مطابق اب تک 1,800 سے زائد پرندوں کے گھونسلے ختم کیے جا چکے ہیں اور یہ عمل روزانہ جاری ہے۔

ای پی اے ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل میپنگ کے ذریعے پرندوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے بعد لاہور ایئرپورٹ کے گرد پرندوں کی مداخلت کے واقعات میں تقریباً 40 فیصد کمی آئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایئرپورٹ کے پرندوں کے پرندوں کو رپورٹ کے کے مطابق

پڑھیں:

افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم

افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA

— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سیلاب نورستان

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق