سینیٹر فیصل واوڈا کا معافی کی خبروں پر بھی ردعمل آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر فیصل واوڈا کا معافی کی خبروں پر ردعمل آ گیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر رپورٹرعماد احمدکے سوال کہ ’’کیا آپ کو لگتا ہے عمران خان معافی مانگیں گے‘‘کے جواب میں سینیٹر فیصل واوڈا نے کہاکہ معافی کا جو عنصر آیا ہے یہ کسی مثال پر آیا تھا، ابلیس کی مثال تھی اگر میں غلط نہیں ہوں تو، اس کے حوالے سے بات ہوئی، اس کا مفہوم ہم نے اپنی مرضی سے نکال لیا ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا کاکہناتھا کہ نہ معافی کیلئے کسی نے کہا ہے کہ مانگو،ہم چھوڑ دیں گے،کیونکہ یہاں قانون ہے آئین ہے،نہ معافی مانگنے والا قبول کرے گا کہ میں نے یہ کام کیا ہے۔
عمران خان کے 400،500سے زیادہ وکالت نامہ سائن کر چکا ہوں جو کہ ورلڈریکارڈ ہے، وکیل سلمان صفدر
انہوں نے کہاکہ مثال کے طور پرمیں آپ سے بات کررہا ہوں اورمثال کے اندر سے آپ کچھ اور نکال لیں یہ میراقصور تو نہیں ہے۔
فیصل واوڈا کاکہناتھا کہ کسی اور کی مثال کی دی گئی تھی مفہوم یہ بنا دیا گیا،مفہوم بنانے میں تو ہم پاکستانی چیمپین ہیں مصالحہ بیچنے میں، آپ اس کے دس مطلب نکال لیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
????سینیٹرفیصل واؤڈا کامعافی کی خبروں کے حوالےسے بڑا بیان????
معافی کاعنصرکسی مثال کےاوپر آیاتھا،ابلیس کی مثال تھی،اس کےحوالےسے بات ہوئی،اس کامفہوم ہم نےاپنی مرضی کانکال لیا،نہ معافی کےلئےکسی نےکہاہےکہ مانگو،نہ معافی مانگنےوالایہ ایڈمیشن کرے گاکہ میں نےیہ کام کیا ہے،سینیٹرفیصل واؤڈا pic.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سینیٹر فیصل واوڈا فیصل واوڈا کا نہ معافی معافی کی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔