قومی کرکٹرز کی جنوبی افریقا کیخلاف سیریز کیلیے اعلان کردہ اسکواڈ پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ نے جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے 18 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کردیا۔
ٹیسٹ اسکواڈ میں صائم ایوب اور نسیم شاہ جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں جبکہ تین نئے کھلاڑیوں آصف آفریدی، روحیل نذیر اور فیصل اکرم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
سابق کرکٹر تنویر احمد نے 38 سالہ آصف آفریدی کی فرسٹ کلاس کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ انہیں کس بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا گیا۔
Ye asif afridi kon ha left arm spinner ager woh ha tou kia performance ha 60 FC main sirf 83 wickets hain or Age 38 ager wohi ha tou lagta ha buhat bara danda laga ha ye tou deserve he nahi karta test team main pic.
صہیب مقصود نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں 35 سال کے کھلاڑیوں پر پابندی لگاکر 38 سال کے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا جارہا ہے۔
From banning 35 year old players from Domestic cricket to selecting 38,39 yers old players in Test Squad what a great cricket system ???????????????????? no Vision just Dhakka start????????????
— Sohaib Maqsood (@sohaibcricketer) September 30, 2025صحافی سلیم خالق نے کہا کہ آصف آفریدی پر اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر لگنے والا بین رواں برس ہی ہٹا ہے اور ان کی پی ایس ایل میں کارکردگی بھی اوسط درجے کی رہی۔
39سالہ آصف آفریدی کااینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر بین رواں برس ہی ختم ہوا،پی ایس ایل میں پرفارمنس اوسط رہی،انھیں ٹیسٹ اسکواڈ میں لینا بھارت کے خلاف تین شکستوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے تو اسے بھونڈی کوشش ہی قرار دیا جا سکتا ہے،عوام اتنے بے وقوف نہیں جتناانھیں سلیکٹرز سمجھتے ہیں
— Saleem Khaliq (@saleemkhaliq) September 30, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔