ٹرمپ کاامن منصوبہ وہ نہیں جس میں ہماری ساری تجاویزموجودہوں،اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈارنے کہاہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کاامن منصوبہ وہ نہیں جس میں ہماری ساری تجاویزموجودہوں۔
نجی ٹی وی سے گفتگوکرتےہوئے اسحاق ڈار نے کہاکہ 8ممالک کے رہنماوں اور وزرائے خارجہ کی صدرٹرمپ اورانکی ٹیم سے ملاقات طے ہوئی،ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ نے حکمت عملی بنائی،ملاقات میں صدر ٹرمپ نے کہاکہ 48گھنٹے میں میری اور اسلامی ممالک کی ٹیم بیٹھ جائے اورپلان بنالے کہ کیاہوسکتاہے؟ ہم نے پہلے صدرٹرمپ کی ٹیم سے ملاقات کی اور کہاکہ آپ ہمیں اپنی سوچ بنائیں ،ٹرمپ کی ٹیم نے ہمیں نکات دیئے ، ہم نے ٹرمپ کی ٹیم سے کہاکہ 24گھنٹے میں ہم ا ن نکات میں اپنی ترامیم پیش کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کاامن منصوبہ وہ نہیں جس میں ہماری ساری تجاویزموجودہوں ،اس ڈرافٹ میں ہماری تجویزکردہ تمام ترامیم شامل نہیں ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ ایک ملک نے یقین دہانی کرائی کی سارے معاملے میں حماس کو اعتماد میں لیاگیاہے۔دوعرب ممالک نے کہاکہ حماس امن منصوبے کو مانے گی۔
ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ پہلامرحلہ غزہ میں جنگ بندی کااس کے بعدہی کچھ ہوسکتاہےہے، اگرجنگ بندی نہیں ہوئی تودوسرے اقدامات نہیں ہوسکیں گے یہ سوال بہت اہم ہے کہ اسرائیل اور نیتن یاہوکی ذمہ داری کون لے گا؟
۔اسحاق ڈار نے کہاکہ غزہ کی مقامی سکیورٹی فلسطینیوں کے پاس ہی ہوگا،فلسطین
انہوں نے کہاکہ غزہ میں 64ہزارلوگ شہید، ڈیڑلاکھ زخمی ہوچکے ہیں، غزہ سے لوگوں کو زبردستی نکالاجارہاہے اور جوجاچکے ہیں انہیں واپس نہیں آنے دیاجارہا،اس وقت خوراک اور ادویات سمیت انسانی امدادنہیں پہنچاسکتے ۔
ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم کسی ایکارڈکاحصہ بننے نہیں جارہے۔
اسحاق ڈارنے کہاکہ ہم نے مشترکہ بیان میں امن کے لئے ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا اوراپنے اپنے ایجنڈے کو بھی دہراہا۔انہوں نے کہاکہ ٹرمپ اوران کی ٹیم کے ساتھ ملک کرا س ایجنڈے کو حاصل کریں گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہاکہ ٹرمپ کی کی ٹیم
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎