data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا بیس نکاتی امن منصوبہ در حقیقت اسرائیل کو تقویت دینے اور صیہونی ریاست کو عالم اسلام کے لئے قابل قبول بنانے کی کوشش ہے، اس منصوبے کی آڑ میں غزہ کا کنٹرول حاصل کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔غزہ پر کنٹرول وہاں کے لوگوں کا ہی اصل حق ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس کی حمایت کر رہی ہے۔اسرائیل کا وجو د کسی بھی صورت میں قبول نہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق ہر قوم کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔حماس کی مسلح جدوجہد اور لازوال قربانیاں گریٹر اسرائیل کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔محمد جاوید قصوری نے آئی ایم ایف کے مطالبے کہ ” پاکستان تمام اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کے لئے قانون سازی کرے ” پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیوروکریسی کا کرپٹ مافیا سے گٹھ جوڑ ختم کرنا، وقت کی اہم ضرور ت ہے۔ ہر وہ شخص جس پر کرپشن کے الزامات ہیں اور وہ اداروں میں خدمات سرانجام دے رہا ہے اس کے گرد شکنجہ سخت کرنا ہو گا۔ ملک کو کرپشن سے پاک کرکے ہی آگے لے کر جایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا، معیشت زبوں حالی کا شکار اور عوام کو کسی قسم کا کوئی ریلیف میسر نہیں۔ایک طرف قرضوں کے پہاڑ کھڑے ہیں، مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڑ قائم ہو رہے ہیں۔ ملکی معیشت کو مصنوعی طریقے سے سنبھالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جو کہ کسی بھی طور پر مستحکم اور پائیدار نہیں ہو سکتی۔ سونا اپنی تاریخ کے سب سے بلند ترین مقام پر پہنچ چکا ہے اور غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہو گیاہے۔محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ سرکاری قرضے میں گزشتہ 3 سال کے دوران 300 فیصد سے زائد یعنی 60 ہزار 800 ارب روپے کا تاریخی اضافہ تشویشناک ہے۔ جون 2018ء سے جون 2022 ء تک سرکاری قرضے میں 24 ہزار900 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ جون 2025ء تک مجموعی سرکاری قرضے کا حجم 80 ہزار500 ارب روپے رہا۔ ہر پاکستانی 3 لاکھ 19 ہزار کا مقروض ہے۔

وقائع نگار خصوصی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جاوید قصوری

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار