حیدرآباد، پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ، دو بدنام زمانہ ملزمان زخمی حالت میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
حیدرآباد:
تھانہ نسیم نگر کی حدود میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو بدنامِ زمانہ ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ مقابلہ ڈیتھا گوٹھ کے علاقے میں پیش آیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق ایس ایچ او نسیم نگر عبدالمالک ابڑو پولیس ٹیم کے ہمراہ معمول کی گشت پر موجود تھے کہ اسی دوران نوید ماچھی اور حبیب اللہ ماچھی نامی ڈاکوؤں کے ساتھ آمنا سامنا ہوا، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں دونوں ملزمان زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے دو ٹی ٹی پستول، چوری شدہ موٹر سائیکل اور موبائل فونز برآمد ہوئے ہیں۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان سنگین جرائم میں ملوث اور متعدد وارداتوں میں مطلوب تھے۔ ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔