ماہرہ خان کا کراچی کی حالت زار پر افسوس کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
کراچی:
نامور پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے کراچی کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کردیا۔
ماہرہ خان نے انسٹاگرام پر کراچی کے مختلف علاقوں کی تصاویر شیئر کی جس کے ساتھ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ کبھی کبھی میں اپنے شہر کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہوں۔ مجھے اپنے کام کے سلسلے میں ایسی جگہوں پر جانے کا موقع ملتا ہے جہاں شاید میں کبھی خود سے نہ جا پاتی۔ مجھے ایسی گلیاں اور بستیاں دیکھنے کا موقع ملا جنہیں میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
اداکارہ نے لکھا کہ ہم سب اپنی چھوٹی سی دنیا میں رہتے ہیں۔ پریشانیاں سب کو ہوتی ہیں لیکن میں نے کراچی میں ایسے علاقوں کو بھی دیکھا جہاں لوگ ہمیشہ سے تکلیف میں ہیں، یہاں گھنٹوں بجلی نہیں ہوتی، کھانے کو بمشکل کچھ میسر ہوتا ہے اور گندگی ہفتوں جمع رہتی ہے، اس شہر میں امیر اور غریب کا فرق بہت زیادہ ہے۔
ماہرہ خان نے لکھا کہ ان سب مسائل کے باوجود کراچی کی زندگی میں اُمید اور محبت کی جھلک اب بھی موجود ہے۔ میں نے یہاں بچوں کو ہنستے کھیلتے دیکھا، ماؤں کو اپنے بیٹوں کے لیے تازہ پراٹھے بناتے دیکھا، وہ بیٹے جو روزی کمانے کے لیے نکل رہے تھے۔
ماہرہ خان نے لکھا کہ میں نے کراچی میں ایک ایسی گلی بھی دیکھی جہاں مندر، چرچ اور مسجد ایک ہی دیوار شیئر کر رہے تھے۔ میں نے لوگوں کے چہروں پر وہ مسکراہٹیں دیکھیں جن میں اداسی تھی مگر ساتھ ہی امید بھی تھی۔
ماہرہ خان نے آخر میں اپنے شہر سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ کراچی میں تم سے پیار کرتی ہوں۔ افسوس ہے کہ ہم تمہاری ویسی دیکھ بھال نہیں کر پائے جیسے تم ہماری کرتے ہو۔
View this post on InstagramA post shared by Mahira Khan (@mahirahkhan)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ماہرہ خان نے لکھا کہ
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔