کراچی، پرانا گولیمار میں فائرنگ سے 30 سالہ شخص جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
کراچی (نیوز ڈیسک) شہر قائد کے علاقے پرانا گولیمار میوہ شاہ قبرستان کے قریب فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں 30 سالہ نوجوان نصیب بحق ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول کو جسم کے مختلف حصوں پر پانچ گولیاں ماری گئیں، جن میں سے سینے پر لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتول نشے کا عادی تھا اور علاقے میں محنت مزدوری کرکے روزی کماتا تھا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق مقتول غیر شادی شدہ اور پرانا گولیمار کا رہائشی تھا۔
مقتول کے ماموں اور دیگر اہل خانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نصیب محنت مزدور لڑکا تھا، ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں، نہ ہی اس کا کسی سے جھگڑا تھا۔
نصیب محنت مزدور لڑکا تھا، ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں، نہ ہی اس کا کسی سے جھگڑا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔