صیہونی فورسز: غزہ جنگ میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجی اہلکاروں کےتفصیلات جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دو سال میں 1 ہزار 152 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور ہلاک فوجیوں میں سےتقریباً 42 فیصد کی عمریں 21 سال سے کم تھیں
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع نے غزہ جنگ کے 2 سالوں میں ہونے والے فوجی جانی نقصان کےاعداد و شمار جاری کردیے۔
اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک 1 ہزار 152 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور ہلاک فوجیوں میں سےتقریباً 42 فیصد کی عمریں 21 سال سے کم تھیں۔
اسرائیلی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ہلاک اسرائیلیوں کا تعلق فوج، پولیس، شن بیٹ ایجنسی اورکارپورلز سےہے۔
وزارت دفاع کے مطابق جنگ کے 2 سال میں 6 ہزار 500 سےزیادہ اسرائیلی خاندان سوگوارہوئے جب کہ اسرائیلی فوج کےخاندانوں میں 351 خواتین بیوا اور 885 بچے یتیم ہوئے۔
اسرائیلی وزارت دفاع نےکہا ہےکہ ریاست اپنےکندھوں پرغزہ جنگ کی بھاری قیمت اٹھا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزارت دفاع
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔