افغان قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی ممکنہ طور پر 9 سے 16 اکتوبر کے درمیان کسی وقت بھارت کا دورہ کریں گے۔ سلامتی کونسل کی ذیلی کمیٹی نے 9 سے 16 اکتوبر تک افغان وزیرِخارجہ کو سفری پابندیوں پر استثنیٰ دیا ہے، افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد کسی طالبان رہنما کا یہ پہلا دورہ بھارت ہوگا۔

3 اکتوبر کو بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے امیر خان متقی کو سفری پابندیوں سے استثنیٰ دیے جانے اور ممکنہ دورہ بھارت کا اعلان کیا لیکن اس دورے کی نہ تو تاریخوں کا اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی اس بات کا کہ اس دورے کے دوران کیا بات ہو گی اور ملاقات کا ایجنڈا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان اور بھارت کی قربت، طالبان نے دہلی کو اہم علاقائی اور معاشی شراکت دار قرار دیدیا

اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی ذیلی کمیٹی نے انہیں سفری پابندیوں پر استثنیٰ دے دیا ہے جس کی وجہ سے وہ دورہ بھارت کر پائیں گے۔

15 اگست 2021 کو افغان طالبان کے کابل پر حکومتی کنٹرول سنبھالنے کے بعد بھارت نے افغانستان میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا تھا لیکن اس کے بعد بھارت نے افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات دوبارہ سے استوار کیے اور چند مہینے قبل سفارتی تعلقات کو اپ گریڈ بھی کیا۔

’افغانستان اور بھارت دونوں کے امریکا سے تعلقات کشیدہ ہیں‘

اس وقت افغانستان اور بھارت دونوں کے امریکا سے تعلقات کشیدہ ہیں، حالیہ دنوں میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں امریکی بگرام ایئر بیس واپس لینے کی بات کی تو جواب میں طالبان وزارت خارجہ کے ترجمان ذاکر جلال نے کہاکہ ہم امریکا سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن افغانستان کے کسی بھی حصے میں امریکی موجودگی نہیں چاہتے۔

’اس کے علاوہ امریکا اور افغانستان کے درمیان ایک اور چیز تعلقات کی خرابی کا باعث ہے، جس کے لیے گزشتہ اور موجودہ امریکی حکومت افغان طالبان حکومت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے مذاکرات کرتی چلی آئی ہے۔‘

مجوزہ ڈیل کی رو سے امریکی انتظامیہ گوانتاناموبے میں قید محمد رحیم الافغانی کو طالبان حکومت کے حوالے کرے گی، بدلے میں طالبان کو 3 امریکی ریان کاربٹ، جارج گلیزمین اور محمود حبیبی کو امریکا کے حوالے کرنا پڑے گا۔

مذاکرات اِس بات پر تعطل کا شکار ہیں کہ افغاں طالبان کا کہنا ہے کہ محمود حبیبی ان کے تحویل میں نہیں، جس وجہ سے امریکا اور طالبان کے درمیان تلخی ہے۔

بھارت اور امریکا میں تعلقات کی خرابی سب کے سامنے ہے۔ امریکا نے بھارت پر پہلے 50 فیصد ٹیرف عائد کیے اور اس کے بعد بھارتی ادویات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا، جس کے باعث بھارت کو برآمدات میں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

بھارت اور امریکا میں تعلقات کی خرابی کی بنیادی وجہ ایک تو بھارت کا روس سے تیل خریدنا اور دوسرا یہ کہ بھارت 10 مئی کے بعد سے پاک بھارت فوجی کشیدگی کم کرانے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے کردار کے حوالے سے انکار کرتا چلا آیا ہے۔

امیر خان متقی کا پہلا دورہ بھارت کیوں منسوخ ہوا؟

اس سے قبل افغان قائم مقام وزیر خارجہ نے ستمبر کے شروع میں بھارت کا دورہ کرنا تھا لیکن اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے سفری پابندیوں پر استثنیٰ نہ ملنے کے باعث وہ یہ دورہ نہیں کر پائے تھے اور اس سے قبل 4 اگست کو ان کا دورہ پاکستان منسوخ ہونے کی بھی یہی وجہ تھی۔

مختلف ذرائع سے آنے والی خبروں کے تناظر میں یہ بات سامنے آئی کہ امیر خان متقی کو سفری استثنیٰ نہ ملنے کے پیچھے امریکی ناراضی کارفرما تھی۔

یہ سفری پابندیاں اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی قرارداد 1988 کے تحت طالبان اور القاعدہ رہنماؤں کے خلاف جون 2011 میں نافذ کی گئیں تھیں۔ طالبان اور القاعدہ رہنماؤں پر نہ صرف سفری بلکہ اثاثہ جات اور اسلحہ سے متعلق پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔

بھارت اور افغانستان کے تعلقات

15 اگست 2021 سے قبل اشرف غنی کی افغان حکومت اور بھارت کے درمیان تمام شعبوں میں بہت اچھے تعلقات تھے اور توقع تھی کہ طالبان حکومت کے ساتھ بھارت کے تعلقات کی شاید وہ نوعیت نہ ہو، لیکن طالبان حکومت کے قیام کے بعد بھی بھارت نے نئی حکومت کے ساتھ تعلقات اچھے رکھے۔

گزشتہ دنوں افغانستان میں آنے والے زلزلے کے بعد بھارت نے جلد ریلیف کا سامان بھجوایا، اگرچہ بھارت نے افغان طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، اس کے باوجود تعلقات کی نوعیت بہت اچھی ہے۔

بھارتی وزیراعظم مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس سے واپسی پر افغانستان میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا تو بھارت میں کافی تنقید ہوئی کہ بھارتی پنجاب اور کشمیر میں سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں پر وزیراعظم مودی کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

طالبان حکومت کے قیام کے بعد بھارت نے جوائنٹ سیکریٹری جی پی سنگھ کی قیادت میں وفد کابل بھیجا جس نے مذاکرات کے بعد انسانی امداد اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے تکنیکی ٹیم کو تعینات کیا اور بھارتی سفارتخانہ جزوی طور پر بحال کیا۔

دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں بہتری لارہے ہیں، طاہر خان

بین الاقوامی صحافتی اداروں سے وابستہ رہنے والے معروف صحافی طاہر خان جو دہشتگردی اور افغان امور پر دسترس رکھتے ہیں، نے ’وی نیوز‘ سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ قائم مقام وزیرِخارجہ امیر خان متقی کے دورہ بھارت کا ایجنڈا یہ ہو سکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو کس طرح سے فروغ دیا جائے۔

انہوں ںے کہاکہ طالبان حکومت اور بھارت کے درمیان حالیہ مہینوں میں رابطے بڑھے ہیں۔ بھارت اور افغانستان میں پیپل ٹو پیپل کونٹیکٹ تو موجود تھا، لوگ افغانستان سے بھارت اور بھارت سے افغانستان آتے جاتے رہتے تھے لیکن حالیہ مہینوں میں امیر خان متقی اور بھارتی وزیرِخارجہ امیر خان متقی کے درمیان 2 مرتبہ ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا۔

’ایک دفعہ جب پہلگام حملہ ہوا اور دوسری دفعہ جب افغانستان میں زلزلہ آیا تھا۔ اس سال جنوری میں دبئی میں امیر خان متقی اور بھارتی وزیر خارجہ کے درمیان دبئی میں ملاقات بھی ہوئی تھی۔‘

طاہر خان نے کہاکہ دونوں ملک 2022 کے بعد سے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بہتری لا رہے ہیں اور اس دورے کے دوران ان تعلقات کے استحکام پر بات چیت کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ افغانستان کو ابھی تک صرف روس نے تسلیم کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنے مراسم بڑھانے میں دلچسپی دکھا رہا ہے، لیکن بھارت نے تاحال امیر خان متقی کے دورہ بھارت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا وہ اِس سلسلے میں بہت محتاط ہیں۔

طاہر خان نے کہاکہ کل امیر خان متقی روس میں ماسکو فارمیٹ کے ’اجلاس شرکت کریں گے اور اس کے بعد وہ بھارت جائیں گے۔

افغانستان کی تو ضرورت ہے کہ دنیا کے ممالک اُس کو تسلیم کریں اس لیے وہ دنیا کے ملکوں کے ساتھ تعلقات رکھنا چاہتا ہے لیکن بھارت جانتا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی وجہ سے کتنا نقصان ہو رہا ہے اور پاکستان اس سلسلے میں افغانستان کے بارے میں اپنے تحفظات ظاہر کرتا رہتا ہے جبکہ بھارت ایسے موقعے تلاش کرتا ہے کہ جتنا ان کا بس چلے وہ پاکستان کو دوسرے ملکوں سے دور کریں۔‘

طاہر خان نے کہاکہ اس سلسلے میں پاکستان کو سوچنا پڑے گا کہ وہ اپنے پاس موجود اسپیس کو تنگ نہ کرے کہ وہاں بھارت اس خلا کو پُر کرنے پہنچ جائے۔

افغان طالبان کو بین الاقوامی طور پر قبولیت کی تلاش ہے، محمود جان بابر

پشاور میں نجی ٹی وی چینل سے وابستہ اور افغان امور پر دسترس رکھنے والے سینیئر صحافی محمود جان بابر نے ’وی نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ افغان طالبان کو بین الاقوامی طور پر قبولیت کی تلاش ہے، ہندوستان ایک عالمی طاقت ہے تو اس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا طالبان حکومت کی بین الاقوامی ساکھ بہتر بنانے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ دوسری طرف بھارت نہیں چاہتا کہ افغانستان مکمل طور پر پاکستان اور چین کے زیرِاثر آ جائے اس لیے وہ افغانستان سے تعلقات بنا کر ایک توازن برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

محمود جان نے کہاکہ افغانستان کی کمزور معیشت کو سرمایہ کاری اور تجارت کی اشد ضرورت ہے۔ بھارت اس سے پہلے افغانستان میں سڑکوں، ڈیم، پارلیمنٹ بلڈنگ بنانے میں کردار ادا کر چکا ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ وہ ایران کے راستے افغانستان کے ذریعے وسط ایشیا سے تجارت کرے جبکہ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں زیر و بم آتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ایسے میں طالبان بھارت کو پاکستان پر دباؤ بنائے رکھنے کا ذریعہ بنا سکتے ہیں، جبکہ بھارت یہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں پاکستان کا اثر کمزور ہو تاکہ وہاں سے بھارت مخالف سرگرمیاں خصوصاً کشمیر کے حوالے سے نہ بڑھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان اور بھارت کی قربت، طالبان نے دہلی کو اہم علاقائی اور معاشی شراکت دار قرار دیدیا

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اس لیے بھی طالبان سے مراسم بڑھاتا ہے تاکہ بھارت مخالف جہادی تنظیمیں وہاں سے بروئے کار نہ آ سکیں اور طالبان کے پاس موقع ہے کہ وہ بھارت کو اس بات کا یقین دلائیں تاکہ بین الاقوامی طور پر الگ تھلگ نہ ہوں۔ بھارت اور افغانستان کے درمیان تعلق مشترکہ ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ بھارت کو افغانستان میں چین کے مفادات پر بھی نظر رکھنی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

weneww افغان وزیر خارجہ افغانستان بھارت تعلقات پاکستان دہشتگردی دورہ بھارت طالبان حکومت عالمی سفارتکاری مودی سرکار وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان وزیر خارجہ افغانستان بھارت تعلقات پاکستان دہشتگردی دورہ بھارت طالبان حکومت عالمی سفارتکاری مودی سرکار وی نیوز افغانستان اور بھارت طالبان حکومت کے کے بعد بھارت نے کے ساتھ تعلقات سفری پابندیوں اور افغانستان افغانستان میں کہ افغانستان افغانستان کے بین الاقوامی افغان طالبان افغانستان ا کے حوالے سے میں طالبان دورہ بھارت اور افغان کے درمیان تعلقات کی بھارت اور کونسل کی بھارت کا نے افغان طاہر خان نے کہاکہ چاہتا ہے بھارت کے بھارت کو کہ بھارت نے والے اور اس

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار