سیاسی جماعتوں میں ہلکی پھلکی موسیقی چلتی رہتی ہے، طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہلکی پھلکی موسیقی چلتی رہتی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں طارق فضل چوہدری، پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن اور پی ٹی آئی کے شفقت عباس اعوان نے شرکت کی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر وقار مہدی نےکہا ہے کہ چچا کے خلاف بھتیجی سازش کر رہی ہے، یہ آپ کے گھر کی لڑائی ہے، پیپلز پارٹی کو نہ گھسیٹیں۔
اس دوران وفاقی وزیر نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا ملک کے بہتر مفاد میں یہ اتحاد قائم رہے گا، دونوں جماعتوں کی سینئر قیادت میں تعلق ہے کوئی دوری نہیں۔
طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ کسی کو شک ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں دوری پیدا کرسکتا ہے تو وہ یہ شک دور کرلے، سیاسی جماعتوں کے درمیان ہلکی پھلکی موسیقی چلتی رہتی ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے استفسار کیا ہے کہ شعلے اگلتی زبانوں کے ساتھ ہم سے سیز فائر کی امید کیسے رکھی جاسکتی ہے؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے سیاسی ساکھ متاثر کرکے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا، آج پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر کامیابیاں مل رہی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد کی اپنی جیل کی تعمیر شہباز شریف کے دور میں شروع ہوئی تھی، یہ جیل مکمل ہوگی تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سزا یافتہ تمام قیدی منتقل ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری پیپلز پارٹی کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔