اگر کسی کو میری بات سے دکھ پہنچا تو میں معذرت خواہ ہوں : ایمل ولی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پتھروں کا تحفہ فیلڈ مارشل نے اپنی جیب سے خریدا تھا اور اس کا معدنیات کی کسی ڈیل، ملکی یا غیر ملکی سے کوئی تعلق نہیں۔
اپنے بیان میں ایمل ولی خان کا کہنا تھاکہ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے گزشتہ دنوں میری تقریر سے قبل وزیراعظم کے ساتھ میری ملاقات جو ان کے دورہ امریکا پر بریفنگ تھی کا ذکر کیا لہٰذا اس حوالے سے ضروری وضاحت دینا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جمعرات کو باقی لگائے گئے الزامات کا جواب تفصیل سے دوں گا۔ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ سینیٹ میں تقریر کے بعد وزیراعظم نے مجھے دورہ امریکا پر بریفنگ دینے کے لیے مدعو کیا، میٹنگ کے آغاز ہی میں انہوں نے مجھ سے معذرت کی اور کہا کہ یہ سب کچھ پارلیمان میں دورے سے پہلے ہونا چاہیے تھا۔
روس کے لیے لڑنے والے بھارتی نوجوان نے ہماری فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، یوکرینی فوج کادعویٰ
ان کا کہنا تھاکہ میں نے وزیراعظم کی معذرت اسی وقت قبول کی اور کہا کہ میری تقریر اٹھا کر دیکھ لیں، میں نے ایوان کی بالادستی کی بات کی ہے، کسی کی تضحیک نہیں کی، میری تربیت ایسے گھر میں ہوئی ہے جہاں ہمیں بڑوں اور چھوٹوں سے بات کرنے کا سلیقہ اور تمیز سکھائی جاتی ہے۔اے این پی صدر کا کہنا تھاکہ وزیراعظم نے اپنی بریفنگ میں وضاحت کی کہ بعض دوروں میں انہیں فیلڈ مارشل کو ساتھ لینے کی ضرورت پیش آتی ہے، کچھ اسٹریٹیجک مجبوریوں کی بنا پر وہ انہیں خود ساتھ لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو دیا گیا پتھروں کا تحفہ فیلڈ مارشل نے اپنی جیب سے خریدا تھا اور اس کا معدنیات کی کسی ڈیل، ملکی یا غیر ملکی سے کوئی تعلق نہیں۔
گریڈ17سے 22 کے افسران کے اثاثے ڈکلیئرکیے جائیں گے، حکومت نے آئی ایم ایف کی بڑی شرط پوری کردی
وفاقی وزیرِ قانون، اعظم نذیر تارڑ نے کل میری تقریر سے قبل وزیراعظم کے ساتھ میری ملاقات، جو دراصل ان کے دورۂ امریکہ پر بریفنگ تھی کا ذکر کیا۔ اس حوالے سے میں ضروری وضاحت دینا چاہتا ہوں۔ باقی، جمعرات کو لگائے گئے الزامات کا جواب تفصیل سے دوں گا۔
سینیٹ آف پاکستان میں تقریر کے بعد…
ایمل ولی خان کا کہنا تھاکہ اس پر میں نے جواب میں کہا مجھ میں یہ جرات ہے کہ اگر کھلے عام تنقید کر سکتا ہوں تو غلطی ہونے پر معذرت بھی کر سکتا ہوں، اگر اس تصویر کا پختونخوا اور بلوچستان کی معدنیات یا کسی سودے سے کوئی تعلق نہیں تو میں معذرت خواہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ پختونخوا اور بلوچستان کی معدنیات پر حق وہاں کے عوام کا ہے، اس میں مقامی لوگوں کو شامل کیا جانا چاہیے، ہم نہ ترقی کے مخالف ہیں اور نہ معیشت کی بہتری کے، ہماری یہ بریفنگ انہی نکات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ میں نے اپنی تقریر میں کسی کی ذات کی بے حرمتی نہیں کی، نہ ہی کسی کی تضحیک کی پھر بھی اگر کسی کو میری بات سے دکھ پہنچا ہو تو میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ ملک کے دفاع کے حوالے سے فیلڈ مارشل کے کردار کو میں نے سراہا ہے اور سراہتا رہوں گا۔ ان کا کہنا تھاکہ البتہ جہاں آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا جائے گا، وہاں مظلوم قومیتوں کے نمائندے کی حیثیت سے میں آواز بلند کرتا رہوں گا۔
تجزیہ کار شاہ زیب خانزادہ نے علی امین گنڈا پور کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹائے جانے کی وجہ بتادی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھاکہ ایمل ولی خان فیلڈ مارشل انہوں نے نے اپنی نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔