سردی آتے ہی خشک میوہ جات کی قیمتوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پشاور میں چلغوزے کی فی کلو قیمت 10 سے 12 ہزار روپے پہنچ گئی جبکہ ایک چلغوزے کی قیمت 200 روپے ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ مونگ پھلی 600 روپے سے 800 روپے فی کلو، بادام 3 ہزار روپے فی کلو، پستہ چار ہزار روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں خشک میوہ جات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ پشاور میں چلغوزے کی فی کلو قیمت 10 سے 12 ہزار روپے پہنچ گئی جبکہ ایک چلغوزے کی قیمت 200 روپے ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ مونگ پھلی 600 روپے سے 800 روپے فی کلو، بادام 3 ہزار روپے فی کلو، پستہ چار ہزار روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ موسم سرد ہونے کے بعد سب سے زیادہ خرید و فروخت مونگ پھلی کی ہو رہی ہے۔ خشک میوہ جات کی عالمی مارکیٹ میں طلب تقریبا 50 لاکھ ٹن سالانہ ہے۔
پاکستان سے 10 لاکھ ٹن خشک میوہ جات برآمد کیا جاتا ہے، سوات، چترال، گلگت بلتستان سمیت مختلف پہاڑی علاقوں سے خشک میوہ جات برآمد کیا جاتا ہے۔ پشاور میں زیادہ ترا سمگلنگ شدہ خشک میوہ جات کی خرید و فروخت ہوتی ہے، جو ایران، افغانستان اور بھارت درآمد ہوتے ہیں، خشک میوجات کے بڑے مراکز کارخانو مارکیٹ پیپلز منڈی اشرف روڈ ہیں تاہم انتظامیہ اس معاملے پر خاموش ہی رہتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہزار روپے فی کلو خشک میوہ جات کی چلغوزے کی کی قیمت
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔