پی ایس ایل کا اگلا سیزن 2اضافی ٹیموں کیساتھ اپریل مئی میں ہونیکا امکان
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسپورٹس ڈیسک ) پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ سال بھی پاکستان سپر لیگ رمضان کے بعد اپریل اور مئی میں کراناچاہتا ہے، دو اضافی ٹیموں کے ساتھ پی ایس ایل 11، انڈین پریمیئر لیگ کے ساتھ ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل فرنچائز اور پی سی بی کے درمیان بہت سارے معاملات حل طلب ہیں اور ابھی تک باضابطہ ایسی میٹنگ نہیں ہوئی جس میں اگلی پی ایس ایل پر بات چیت ہو۔اگلے سال کے شروع میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی وجہ سے پی ایس ایل فروری مارچ میں کرانا ممکن نہیں ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 3 ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز ہوگی جس کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان دو ٹیسٹ کی سیریز ہوگی۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پی ایس ایل کے بعد پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل کی سیریز ہوگی۔ بنگلا دیش کی ٹیسٹ سیریز کے بعد وائٹ بال سیریز مئی کے بعد ہوگی۔ پاکستان ٹیم بنگلا دیش میں تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل میچ کھیلے گی۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان بھی تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل میچ ہوں گے۔ اس لیے پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ سال اپریل اور مئی میں دو اضافی ٹیموں کے ساتھ پی ایس ایل کراناچاہتا ہے۔دوسری جانب آئی پی ایل کا اگلا ایڈیشن 15 مارچ سے 31 مئی تک کھیلا جائے گا اس لیے اس بار بھی قوی امکان ہے کہ دونوں بڑی لیگز کے میچز کی تاریخوں میں ٹکرا ہو اور بہت سے انٹرنیشنل کھلاڑی دونوں میں سے کسی ایک لیگ کا انتخاب کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اور پی ایس ایل کے درمیان ٹی ٹوئنٹی کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔